تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 466
۴۵۱ افروز رہے اور پوری کارروائی حضور کی نگرانی میں ہوئی جس کے ہر مرحلہ پر آپ نے راہنمائی فرمائی اور ضروری اور اہم ہدایات سے نوازا جسے ہمیشہ ہی مشتعل راہ کی حیثیت حاصل رہے گی۔حضور نے نفیس مشاورت میں اپنی بیماری کی نوعیت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ : 19ء میں میں نے مجلس شوری میں کچھ کام کیا تھا۔آج شہد میں چار سال کے بعد پھر خدا تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ ہمیں شوری کے تمام اجلاسوں میں شریک ہوا ہوں اور کام بھی کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میری صحت میں ترقی ہوئی اور ہو رہی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں کہ ٹی نمایاں فرق نہیں پڑا۔مثلاً با محتوں میں جو بے حستی تھی وہ ابھی تک دور نہیں ہوئی اس لیے بعض اوقات بڑی گھر ہٹ ہو جاتی ہے پیر کی انگلیاں اندر کو کچھتی ہیں۔اور ہاتھ ہے جس ہو جاتا ہے۔ہوتی تو یہ مذاق کی بات ہے لیکن گھر میں میرا کوئی چھوٹا پوتا یا نواسہ آ جائے تو وہ بیمار نہیں سمجھتا وہ میرا ہاتھ پکڑے تو میں فوراً گھبرا جاتا ہوں کہ کیا ہو گیا ہے اور میرا ہاتھ کدھر چلا گیا ہے۔غرض ان چیزوں کو کوئی نمایاں فائدہ نہیں ہوا۔پس جب تک مجھے یقیں نہ ہو جائے کہ یوروپ میں کوئی نیا علاج نکل آیا ہے، اس وقت تک میرا وہاں جانا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔اگر یہ پتہ لگ جائے کہ وہاں علاج ہے جس سے مجھے فائدہ ہو سکتا ہے تو ہیں وہاں امریکہ بھی جانے کو تیار ہو گیا تھا۔مگر پھر وہاں سے پتہ لگا کہ امریکہ میں جو علاج ہے وہ وہی ہے جو یوروپ میں ہے اور اس سے کوئی فائدہ آپ کو نہیں ہو سکتا۔اس لیے میں سوئٹزر لینڈ میلا گیا۔اور دہاں دوبارہ ڈاکٹروں سے اپنا معائنہ کرایا۔انہوں نے بھی بتایا آپ کو امریکہ میں علاج سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ہے۔امریکہ میں پوسٹن بڑی بھاری یونیورسٹی ہے وہی ڈاکٹر جس سے میں علاج کرا رہا تھا اس نے مجھے بتایا کہ میں وہ ہیں سے آرہا ہوں اور میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کو دہاں کوئی امدہ نہیں ہو گا۔آپ کو خود زور لگانا چاہیئے۔کہ آپ اچھے ہو جائیں۔آپ جب تک یہ خیال نہ کریں کہ میں اچھا ہوں اس وقت تک آپ کو کوئی دوائی فائدہ نہیں دے سکتی۔میں نے کہا جب مجھے نظر آتا ہے کہ میں بیمار ہوں تو میں اپنے آپ کو تندرست کیسے خیال کرلوں۔وہ کہنے لگا چاہے آپ کو یہی نظر آتا ہے کہ آپ بیمار ہیں لیکن جب تک آپ یہ خیال نہیں کر یں گے کہ آپ تندرست ہیں اس وقت تک آپ تندرست نہیں ہو سکتے۔میں نے کہا اچھا پھر آپ مجھے ایسی دوائیں دیں میں کہ استعمال سے میں بھول جاؤں کہ میں بیمار ہوں۔تو وہ کہنے لگا یہی بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ اس کا ہمیں پتہ نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ اگر تو کوئی