تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 33 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 33

السلام السلام السلام عليكم ورحمة الله وبرکاتها ہم ممبران جماعت احمدیہ شام اپنے محبوب امام و آقا مصلح موعود ایدہ اللہ منصرہ العزیز سے اپنے عہد وفاداری کی تجدید کرتے ہیں۔اور ہم ہر فتنہ سے جسے کمزور ایمان اور کم عقل اشخاص خلافت اور منصب خلافت عالیہ کے خلات پر پاکرتے ہیں۔نفرت کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ خلافت ہی وہ نعمت ہے۔جسے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو دنیا میں استحکام بخشنے اور اسلام کی عزت وعظمت و کرامت قائم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے اور ساری دنیا میں امن وسلامتی پھیلانے کے لئے قائم فرمایا ہے۔ہمیں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستر سفر یورپ پر روانہ ہونے سے پہلے اور اپنی بیماری کے ایام میں بھی جماعت کو منافقوں کے فتنہ سے خبر دار اور ہوشیار کر دیا تھا۔اور فرمایا کہ سچا مومن تو اگر اسے اپنے عقائد حقہ کی حفاظت کے لئے اپنے باپ سے بھی لڑنا پڑے تو اس کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اور اس کا بھی مقابلہ کرتا ہے۔اور آپ نے ابی ابن ابی سلول کی مثال بیان فرمائی تھی کہ دیکھو اس کے بیٹے نے اپنے باپ سے کیسا سلوک کیا اور اسے مجبور کر دیا کہ وہ خود اپنی زبان سے اقرارہ کرے کہ وہ خود ہی ذلیل ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معززہ ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کی تدابیر اور سیمیں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اپنے مرکنہ سے باہر ہونے اور سفر یورپ کے ایام میں کارگر نہیں ہو سکیں۔اور نہ ہی حضور کے سفر یورپ سے واپس آجانے کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے بلکہ وہ بری خرت ، اپنے مقصد میں ناکام ونامراد ہوئے۔جیسے ان سے پہلے آج تک جو شخص بھی خلافت کے خلاف اٹھا نا کام رہا۔مکر را گرم ہے کہ ہم ہر ایک فتنہ کو جو حضور کی خلافت مقدسہ اور منصب خلافت کیخلاف اٹھایا جائے سخت نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔اور اپنے امام اور آقا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز سے اپنے عہد وفاداری اور اطاعت کی تجدید کرتے ہیں اور حضور سے اپنے لئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں۔اور دعا کرتے ہیں اللہ تعالے حضور کو عزت پر عزت عطا فرمائے اور مدد پر مدد فرمائے اور کامل شفا بخشتے اور ہر شخص جو حضور کا دشمن ہو اسے بے یارو