تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 462 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 462

آدمی ہمیشہ خوش رہتا ہے۔اور مطمئن رہتا ہے وہ کسی سے ڈرتا نہیں ؛ ) روزنامه الفضل ۳۰ مارچ ۱۹۵۶ء) کیرالہ سٹیٹ کے گورنر جناب شری بی رام کرشنا را ڈنے گورنی صاحب کیرالہ سٹیٹ و جنوبی ہند کا ناظر صاحب امور عامہ قادیان کے نام ایک خط میں لکھنا جماعت احمدیہ کو خراج تحی یکین احمدیہ جماعت کے کارناموں کو ایک عرصہ سے دیکھ رہا ہوں اور بہت سے احمدی میرے دوست ہیں۔مجھے خوشی ہے کہ یہ اس جماعت کی متواتر اور مستقل پالیسی ہے کہ ملک کی حکومت کے ساتھ وفا داری کی جائے۔حب الوطنی اسلامی تعلیم کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم مہند دوستان کے تمام مسلمانوں کی طرف سے عمل میں لائی جائے گی ہم اس وقت بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں اور مہندوستان امید کرتا ہے کہ اس میں بسنے والے سب مرد اور عورتیں وفاداری سے حب الوطنی کے طریق پر چلیں گے اور جو بھی حالت پیدا ہوں ملک کے متعلق اپنے قومی فرائض ادا کریں۔زیادہ آداب آپ کا مخلص ہے۔مغربی افریقہ کا مشہور ملک گولڈ کوسٹ گوانڈ کوسٹ کی آزادی اور حضرت صلح موعود کا پیغام جون سے برطانوی نو آبادیات ۷۴ م کا حصہ تھا ، اس سال غلامی کی زنجیریں تو ہ کر 4 مارچ 190 ء کو دنیا کی آزاد قوموں کی صف میں داخل ہو گیا۔آزادی کے بعد ٹو گو لینڈ کو منسلک کر کے اس کا نام غانا (GHANA) سے کھا گیا۔مغربی افریقہ کے چارہ بر طانوی مقبوضات میں سے گولڈ کوسٹ ہی ایک ایسا ملک تھا جس کے باشندوں نے اسیروں کے رستگار حضرت مصلح موعود کے بھیجے ہوئے مبلغین کا بہت گر خوشی سے خیر مقدم کیا اور سب سے زیادہ تعداد میں احمدیت قبول کی اور خدا تعالیٰ کی بھی عجیب شان کریمی ہے کہ اس نے افریقہ کی برطانوی نو آبادیات میں سب سے پہلے آزادی و خود مختاری کی نعمت سے نوازنے کے لیے اسی خوش قسمت ملک کو چنا۔نیز یہ اعزاز بھی بخشا کہ اس کی بدولت دوسرے مقبوضہ افریقی ملکوں میں سه اخبار بدر قادیان در مارچ ۱۹۵۷ د صت "NO" COLLIER'S ENCYCLOPEDIA"