تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 461 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 461

۴۴۶ ره کو جانتے ہیں۔آپ ان کے واقف ہیں ان کا نام پادری دارت دین تھا۔میں نے کہا ئیں ابھی ان کا ذکر کر رہا تھا نوجوان کہنے لگا ابھی تار آئی ہے کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔دارت دین ایک پادری تھا۔میں نے ڈاکٹر مارٹن کلارک کو خوش کرنے کے لیے اس کی طرف سے یہ ساری کارروائی کی مفتی مگر خدا تعالیٰ نے بیٹی کشتر صاحب پر حق کھول دیا۔اور خود تو گواہ تھا۔اس نے بھی اقرار کر لیا کہ جو کچھ کیا جارہا ہے۔یہ سب جھوٹ ہے۔مگر بین اس وقت جب سر ڈگلس دارث دین کا ذکر کر رہے تھے۔اس کے بیٹے کا دیاں آنا اور اپنے والد کی وفات کی خیر دینا عجیب اتفاق تھا ، سر ڈاکس اپنی موت تک جس احمدی کو بھی ملتے رہے ا سے یہ واقعہ بناتے رہے۔انہوں نے مجھے بھی یہ دافعه شنایا چوہدری فتح حمد صانعوب اور جو بدری ظفر اللہ خان صاحب کو بھی یہ واقعہ سنایا۔۱۹۲۷ء میں جب میں دہاں گیا تھا۔تو ان کی صحت اچھی تھی۔یہ ۳۲ سال قبل کی بات ہے اب وہ ۹۳ سال کی عمر میں فوت ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے ہی میں ان کی عمر 4 سال تھی۔اس دفعہ جب میں انگلینڈ گیا تو میں نے انہیں بلایا تو انہوں نے معذرت کر دی F اور کہا۔میں اب پڑھا ہو گیا ہوں۔اور بہت کمزور ہوں۔اب میرے لیے چلنا پھرنا مشکل ہے۔اب سُنا ہے اور کہ وہ فوت ہو گئے ہیں۔تو مجھے افسوس ہوا کہ موٹر ہمارے پاس تھی۔ہم موٹر میں انہیں منگوا لیتے یا ان کے گھر چلے جاتے تو یہ آیات بینات ہیں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ دینا میں اپنے انبیاء کی سچائی ظاہر کرتا رہتا ہے مومن کو چاہیے کہ وہ بچے معنوں میں مومن بننے کی کوشش کرے اگر وہ حقیقی ہیں۔۔۔۔۔بنے تو اللہ تعالیٰ ضرور غیب سے ایسے حالات پیدا کرتا ہے جس سے اس کا ایمان تازہ ہوتا رہتا ہے اور در حقیقت ایسے ایمان کے بغیر کوئی مزہ بھی نہیں میں ایمان نے آنکھیں نہ کھولیں اور انسان کو اندھیرے میں رکھا اس کا کیا فائدہ۔جو اس جہاں میں اندھا رہے گا وہ دوسرے جہاں میں بھی اندھا ر ہے گا اور جیسے اس جہان میں آیات بنیات نظر نہیں آئیں اس کو اگلے جہان میں بھی آیات بنیات نظر نہیں آئیں گی۔اس دنیا میں آیات بنیات نظر آئیں تو دوسری دنیا میں بھی آیات بنیات نظر آتی ہیں۔پس مومن کو ہمیشہ دعاوں اور ذکر الہی میں لگے رہنا چاہیئے کہ وہ دن اسے نصیب ہو۔جب اللہ تعالی اسلام اور اپنی ذات کی سچائی اس کے لیے کھول دے اور اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سنور چہرہ اور خدا تعالیٰ کا نورانی چہرہ نظر آجائے۔جب یہ ہو جائے تو پھر رات اور دن اور سال تکلیف کے سال ہوں یا خوشی کے سال ہوں۔اس کے لیے برابر ہو جاتے ہیں اور چاہے کچھ بھی ہو ایسا