تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 460 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 460

۴۴۵ یم چند کا بیان ہے کہ میں نے اسے بچے بچے بیان دینے کے لیے کہا۔تو اس نے پہلے تو اصرار کیا۔کہ واقعہ بالکل سچا ہے۔مرزا صاحب نے مجھے ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے قتل کرنے کے لیے بھیجا تھا۔لیکن میں نے سمجھ لیا کہ شخص پادریوں سے ڈرتا ہے چنانچہ میں نے کہا۔میں نے ڈپٹی کمشنر صاحب سے حکم لے لیا ہے کہ اب تمہیں پادریوں کے پاس نہیں جانے دیا جائے گا۔اب تم پولیس کی حوالات میں ہی رہو گے۔تو وہ میرے پاؤں پر گر گیا۔اور کہنے لگا۔صاحب مجھے بچالو۔میں اب تک جھوٹ بولتارہا ہوں۔اس نے مجھے بتایا۔کہ صاحب آپ دیکھتے نہیں تھے کہ جب میں گواہی کے لیے عدالت میں پیش ہوتا تھا۔تو میں ہمیشہ ہاتھ کی طرف دیکھتا تھا اس کی وجہ یہ تھی۔کہ جب پادریوں نے مجھے کہا۔کہ جاؤا ور عدالت میں بیان دو کہ مجھے مرزا صاحب نے ہنری مارٹن کلارک کے قتل کے لیے بھیجا تھا۔اور امرتسر میں مجھے فلاں مستری کے گھر میں جانے کے لیے ہدایت دی تھی یہ دوست مستری قطب الدین صاحب تھے۔جن کا ایک پوتا اس وقت جامعہ احمدیہ میں پڑھنا ہے) تو میں نے کہا۔میں تو وہاں کے احمدیوں کو جا نتا بھی نہیں۔مجھے اس کا نام یاد نہیں رہے گا راس پر مستری صاحب کا نام کو ٹلہ کے ساتھ میری ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے۔جب میں گواہی دیتے آتا تھا اور ڈپٹی کمشنر صاحب مجھ سے دریافت کرتے تھے کہ تمہیں امرتسر میں کسی کے گھر بھیجا گیا تھا۔تو میں ہاتھ اٹھانا تھا۔اور اس پر سے نام دیکھ کر کہ وہ نیا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے فلاں احمدی کے پاس بھیجا تھا۔عرض اس نے ساری باتیں بتا دیں اور سرڈگلس نے انگلی پیشی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو بری کر دیا۔تو دیکھو یہ سب واقعات ہمارے لیے آیات بینات ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے سرڈگلس کے لیے اور آیات بینات بھی پیدا کیں۔ایک آیت بنیہ یہ تھی کہ انہیں ٹہلتے ہلتے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نظر آتی تھی۔اور وہ تصویہ کہتی تھی کہ میں بے گناہ ہوں۔میرا کوئی قصور نہیں پھر انہوں نے خود مجھے سنایا۔کہ ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا اور ایک ہندوستانی آئی سی ایس آیا ہوا تھا۔اس نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اپنی زندگی کے عجیب حالات میں سے کوئی ایک واقعہ بنائیں۔تو میں نے اسے یہی مرزا صاحب والا واقعہ سنایا۔میں یہ واقعہ سنارہا تھا کہ بہرے نے ایک کارڈ لا کر دیا۔اور کہا باہر ایک آدمی کھڑا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے کہا اس کو اندر بلا لو۔جب وہ شخص اندر آیا۔توئیں نے کہا۔نوجوان ہیں آپ کو جانتا نہیں۔آپ کون ہیں۔اس نوجوان نے کہا۔آپ میرے والد