تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 459 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 459

لدلم تم ہیں وہ کبھی ادھر جاتے ہیلی کبھی ادھر۔ان کا سہرہ پریشان ہے۔میں ان کے پاس گیا اور کہا صاحب آپ باہر پھر رہے ہیں۔میں نے ویٹنگ روم میں کرسیاں سمجھائی ہوئی ہیں آپ وہاں تشریعت رکھیں۔وہ کہنے لگے منشی صاحب آپ مجھے کچھ نہ کہیں میری طبیعت خراب ہے۔میں نے کہا کچھ بتائیں توسہی آخر آپ کی طبیعت کیوں خراب ہوگئی ہے تاکہ اس کا مناسب علاج کیا جا سکے۔اس پر وہ کہنے لگے۔جب سے میں نے مرزا صاحب کی شکل دیکھی ہے اس وقت سے مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کوئی فرشتہ مرزا صاحب کی طرف ہاتھ کر کے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ مرزا صاحب گنہگار نہیں ان کا کوئی قصور نہیں۔پھر میں نے عدالت کو ختم کر دیا اور یہاں آیا تو اب ٹہلتا ٹہلتا جب اس کنارے کی طرف نکل جاتا ہوں تو وہاں مجھے مرزا صاب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتے ہیں ہیں نے یہ کام نہیں کیا یہ سب جھوٹے ہے۔پھر میں دوسری طرف جاتا ہوں تو یہاں بھی مرزا صاحب کھڑے نظر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں یہ سرب جھوٹ ہے۔میں نے یہ کام نہیں کیا۔اگر میری یہی حالت رہی تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا صاحب آپ چل کر دیٹنگ روم میں بیٹھے۔سپرنٹنڈنٹ پولین بھی آئے ہوئے ہیں وہ بھی انگریز ہیں۔ان کو بلا لیتے ہیں شاید ان کی باتیں سن کر آپ شکتی پا جائیں۔سپر نٹنڈنٹ صاحب پولیس کا نام لیمار چنڈ تھا۔سر ڈگلس نے کہا انہیں بلوا بھر چنا نچہ میں انہیں بلا لایا۔جب وہ آئے تو سر ڈگلس نے ان سے کہا دیکھو یہ حالات ہیں میری جنون کی سی حالت ہو رہی ہے۔میں اسٹیشن پر ٹہلتا ہوں اور گھیرا کہ اس طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مرزا صاحب گھڑے نظر آتے ہیں، اور ان کی شکل مجھے کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں مجھ پر جھوٹا مقدمہ کیا گیا ہے پھر دوسری طرف جاتا ہوں تو وہاں کنارے پر مجھے مرزا صاحب کی شکل نظر آتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں یہ سب کچھ جھوٹ ہے جو کیا جارہا ہے۔میری یہ حالت پاگلوں کی سی ہے اگر تم اس سلسلہ میں کچھ کہ سکتے ہو تو کر و دورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا۔بیمار چنڈ نے کہا اس میں کسی اور کا تصور نہیں آپ کا اپنا قصور ہے۔آپ نے گواہ کو پادریوں کے حوالہ کیا ہوا ہے۔وہ لوگ جو کچھ اسے سکھاتے ہیں ده عدالت میں آکر بیان کر دیتا ہے آپ اسے پولیس کے حوالہ کریں۔اور پھر دیکھیں کہ وہ کیا بیان دیتا ہے۔چنانچہ اسی وقت سر ڈگلس نے کا غذ قلم منگوایا اور حکم دے دیا کہ عبد الحمید کو پولیس کے حوالہ کیا جائے اور حکم کے مطابق عبد الحمید کو پادریوں سے نے لیا گیا۔اور پولیس کے حوالہ کر دیا گیا دوسرے دن یا اسی دن اس نے فوراً اقرار کر لیا کہ میں جھوٹ بولتا رہا ہوں۔