تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 455
تک کہ دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی ویسی دیسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا۔اور یہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خدا نے اس کام کے لیے اُسی کو ٹینا۔ایک حاکم کے لیے کس قدر یہ امتحان کا موقع ہے کہ دو فریق اس کے پاس آدیں کہ ایک ان میں سے اس کے مذہب کا مشنری ہے اور دوسرا فریق وہ ہے جو اس کے مذہب کا مخالف ہے اور اس کے پاس بیان کیا گیا ہے کہ وہ اس کے مذہب کا سخت مخالفت ہے۔لیکن اس بہا در پیلاطوس نے اس امتحان کو بڑے استقلال کے ساتھ برداشت کر لیا اور اسکی ان کتابوں کے مقام دکھلائے گئے۔جن میں کم انہی سے عیسائی مذہب کی نسبت سخت الفاظ سمجھے گئے تھے اور ایک مخالفانہ تحریک کی گئی تھی۔مگر اس کے چہرے پر کچھ تغیر پیدا نہ ہو کیونکہ وہ اپنی روش کانشنس کی وجہ سے حقیقت تک پہنچ گیا تھا اور چونکہ اس نے مقدمہ کی اصلیت کو سچے دل سے تلاش کیا اس لیے خدا نے اس کی مدد کی اور اس کے دل پر سچائی کا الہام کیا اور اس پر واقعی حقیقت کھولی گئی اور وہ اس سے بہت خوش ہوا کہ عدل کی راہ نظر آگئی۔کرنل ایم ڈبلیو ڈگلس کی وفات پر جماعت احمدیہ کی طرت سے امیر مقامی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا کم نے امام بیت الفضل لنڈن کے نام حسب ذیل تعزیتی تار ارسال فرمایا : - کرنل ڈگلس کی وفات کی اطلاع پہونچی۔ان کے خاندان کو دلی ہمدردی کا پیغام پہنچا دیں۔ان کا رہ دلیرانہ اور دیانتدارانہ رویہ جو انہوں نے اس مقدمہ میں اختیار کیا۔جو آج سے ساٹھ سال قبل حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خلاف ایک مسیحی پادری کی طرف سے جھوٹے طور پر کھڑا کیا گیا ہماری یاد میں ہمیشہ تازہ رہے گا بیٹے کرنل ڈگلس کی وفات جماعت احمدیہ کے لیے ایک المیہ تھا اور اس امر کی ضرورت تھی کہ موجودہ اور آئندہ نسلوں میں اس عظیم اور ناقابل فراموش شخصیت کی یاد ہمیشہ تازہ رکھی جائے یہی وجہ ہے کہ کستید نا له الفضل یکم مارچ 1966ء ما