تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 32
۳۲ کا خہار کیا ہے۔وہ ہر معمولی عقل والے انسان کو بھی اس بات کا یقین کروانے کے لئے کافی ہے۔کہ ان منافقین نے جو طریقے استعمال کئے ہیں۔وہ خوارج کے طریقوں سے ذرہ بھر بھی مختلف نہیں۔ہر زمانہ میں منافق اسی طریق پر چلتے رہے ہیں۔اسی وجہ سے ہم بغیر کسی دقت کے اُس بہت بڑے نقصان کا اندازہ کر سکتے ہیں جو منافقین جماعت کو پہنچانا چاہتے ہیں : منافقین کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جماعت کے بارے میں اللہ تعالے کی نصرت کا وعدہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ہمیں اس کے پورا ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔ہم یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس نصرت و مدد کو روکنے کی کوئی بھی کوشش خواہ وہ سازش اور فتنہ ہی کیوں نہ ہو۔کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ قول کہ میری جماعت میں بھی یزیدی پیدا ہوں گے۔بالکل حق ہے اور اس کی سچائی بالکل واضح ہو چکی ہے پس حضور اللہ تعالیٰ کی نصرت و مدد سے اپنا کام کرتے چلے جائیں اللہ تعالے ہی حضور کا بہترین محافظ ہے۔اور وہ سب رحم کرنے والوں میں سے زیادہ رسم کرنے والا ہے۔آخر میں ہم حضور سے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔اور اس دنیا میں اور آخرت میں بھی اپنی رضا حاصل کرنے کا موقعہ ہم پہنچائے آمین خاکسار : محمد بسیونی جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ صرے -۲ ممبران جماعت احمدیہ شام کا اخلاص نامہ بسم الله ارحمن الرحيم محمده و تصلى على رسوله الكريم ول عبد ال مسیح الموعود سیدنا و مولانا و امامنا ؛ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خلیفہ ثانی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام - ه الفضل (۱۸ اکتوبر ۱۹۵۶ ص ۳ (ترجمه)