تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 429 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 429

رہے پھر ریٹائر ہو گئے اس کے بعد انہیں پبلک سروس کمیشن کا چیر مین مقر کیا گیا اور اسی دوران انہوں نے بیعت کا شرف حاصل کیا۔ان کا یہ نظریہ دو سال کے لیے متھا جب دو سال ختم ہو گئے تو فارغ کر دیا گیا ہیں نے دیکھا کہ انہیں اس بات کی ذرہ بھر پر واہ نہ تھی چونکہ وہ بڑے قابل اور معزز انسان تھے اس لیے ملایا کی سنٹرل حکومت نے لے لیا اور آپ دوبارہ مرکز می حکومت کی طرف سے اسی اپنی ریاست میں مجسٹریٹ درجہ اول مقرر ہو گئے۔اور کچھ عرصہ بعد اپنی کمزوری اور کام کی کثرت کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔اور مجھے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ زندگی کے بقیہ ایام خدا کی عبادت اور تبلیغ کے لیے وقف کر دوں بعض لوگوں نے انہیں مختلف طریق سے تکلیف دینے کی کوشش کی اور احمدیت کی وجہ سے ان کی بہنگ کرنے کی بھی کوشش کی مگر انہوں نے کبھی کوئی پرواہ نہ کی۔آپ کی ایک بہن جن کا نام اونکو فاطمہ ہے یہ بھی بڑی تشریف الطبع سلیم الفطرت عبادت گزار اور متقی خاتون ہیں اونکو صاحب نے انہیں کہا کہ میں تو احمد می ہو چکا ہوں میں نہیں چاہتا کہ ہم دونوں دیا جدا ہوں اپنے بھائی کے کہنے پر انہوں نے بھی استخارہ کیا ایک دفعہ نہیں دو دفعہ اور دونوں دفعہ ام نے دیکھا کہ ایک دیوار پر اشهد ان لا إلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّد رسُولُ اللہ لکھا ہے۔ان الفاظ میں لفظ اللہ بڑے نمایاں کردن میں ہے اور دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس لفظ اللہ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ایسا نظارہ انہوں نے دو دفعہ دیکھا چنانچہ انہیں یقین ہو گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بہتے ہیں اس لیے مبر ۱۹۵۶ ء میں انہوں نے بھی بیعت کر لی اس طرح چند ماہ کے بعد ان کی دوسری بیوی سعدیہ صاحبہ نے بھی بیعت کر لیتے ۱ - جماعت احمدیہ انڈونیشیا کی ساتویں سالانہ کانفرنس انڈو نیشیا کے انڈونیشیا مشن دار الحکومت جاکر تنہ کے ایک وسیع ہال میں ۱۸ ۱۹ ۲۰ ۱۲۱ فروردی ۱۹۵۶ء کو کامیابی سے منعقد ہوئی جس میں انڈونیشیا کی ۲۱ جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔سه وفات ۶۱۹۶۹