تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 415
سیرالیوں تشریف لائے تو بواحمدیہ سکول سے نظم وضبط سے بہت متاثر ہوئے اور سکول کی لاگ بنگ پر یہ ریمارکس دیئے کہ : - میں اس تعلیمی ادارے کے افسران اور منتظمین کے لیے جو ملکی اور علی فلاح وبہبود کی خاطر ہر قسم کی کوشش بروئے کار لا رہے ہیں نیک جذبات رکھتا ہوں اور انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے یقین دلاتا ہوں کہ ان کی جدوجہد اور کوششیں ضرور کامیاب رہیں گی یا ڈائریکٹر صاحب کے اس معائنہ کا یہ خوشگوار نتیجه بر آمد ہوا کہ مشن کا رابطه براه راست اقوام متحدہ سے قائم ہو گیا اور یہ حقیقت بھی نمایاں ہوگئی کہ اس ملک میں جماعت احمد یہ سجادہ فعال جماعت ہے ہو اس وقت بلا تفریق مذہب وملت خدمت خلق میں مصروف ہے یہ در سیرالیون مشن کے انچارج مولوی محمد صدیق صاحب امرتسرمی تھے۔آپ کی قلمی، لسانی اور ٹی و دینی خدمات اس سال بھی بدستور جاری رہیں آپ نہ صرف احمدیہ مشن کے انگریزی ترجمان " افریقین کر لینٹ کی اشاعت میں مصروف عمل رہے بلکہ ماہ مارچ ۱۹۵۶ ء میں ایک نیا عربی رسالہ الہلال الا فریقین کے نام سے جاری فرمایا علاوہ انہیں آپ کی طرف سے بوشہر کے مسلمان علماء دیگر سرکردہ اصحاب کو ایک خاص دعوت دی گئی کہ ہم سب اسلامی فرقے متحدہ کو نسل قائم کریں جس کا مقصد مسلمانوں کی عام فلاح وبہبود کے علاوہ ان کی دینی ، ثقافتی ، مدنی، معاشرتی اور علمی حالت کو سدھارنا اور تبلیغ اسلام کرتا ہو نیز مشتر کرکے سیکنڈری سکول قائم کیا جائے اس دعوت پر سر کہ وہ مسلمانوں نے خاص غور کرنے کا وعدہ کیا۔آپ نے احمدی پیرا ماؤنٹ چیٹ کے تعاون سے باجے بواحمدیہ دارالتبلیغ اور احمد یہ سکول کے لیے شہر کے وسط میں قطعہ زمین مخصوص کرایا یے سیرالیون کے مغربی صوبہ میں کوئی پبلک مسلم لائیبریری موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے احمدی اور غیر احمد می حلقوں کو سخت دقت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری نے اس دینی اور قومی ضرورت کی طرف اس سال خاص توجہ دی اور فیصلہ کیا کہ بو " شہر میں اس کا قیام عمل میں لایا جائے۔له الفضل ، رنومبر ۱۹۵۶ء ۳۰ : ۲ الفضل ، ارمٹی ۱۹۵۶ء صدر : سم الفضل ۱۲۴ جولائی ۱۹۵۶ دمت ۴۔خلاصہ رپورٹ مولوی محمد صدیق صاحب شاہد مبلغ سیرالیون - !