تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 391 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 391

کیا جس کے جواب میں صدر محلی محترم سید عبد السلام صاحب نے اسلامی تعلیم سے منقارت کرایا۔اور ماریا کو سٹر کر لنڈن رجنرل سیکر ڈی انٹر یونیورسٹی فیلوشپ آف لندن) مختلف کو بلوں کے طلباء سمیت مشن ہا ؤس تشریف لائے اور میسج سنجات دہندہ کے موضوع پر لیکچر دیا۔مولو احمد النصاحب نے اپنی جوابی تقریر میں جماعت احمدیہ کے مسلک کی ایسی عمدہ ترجمانی کی کہ فامتل مقرر نے کہا۔اگر فی الواقعہ سے صلیب پر فوت نہیں ہوا تو پھر عیسائی مذہب کی بنیاد ختم ہو جاتی ہے اور اس کی تمام عمارت کا ا منہدم ہونا یقینی ہے لے ۵ - ۲ را پریل کو DR۔FAI RBRAIN نے سائنسی اور عیسائیت کے موضوع پرلیکچر دیا۔بعد ازاں علمی مذاکرہ ہوا۔نہیں میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، سید محمود احمد صاحب ناصر ملک عطاء الرحمن صاحب سابق مبلغ فرانس اور سید داؤد احمد صاحب نے نمایاں حصہ لیا۔پروفیسر انڈرسن ( ANDERSON) دلندن یونیورسٹی میں شعبہ قوانین شرق کے صدر) نے ایک کتاب " AFRICA“ ISLAMIC LAW IN EAST AFRICA لکھی نہیں میں قتل مرتد کے عقیدہ اسلام کی طرف منسوب کیا۔۸ را اپریل کو امام بہت الفضل لنڈن نے اس غلطی کے بارہ میں مفصل تبادلہ خیالات کیا میں پر پر وفیسر صاحب نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ احمدیت اسلام کی نہایت معقول مشکل ہے۔-۳ ، جون کو مسٹر گنگ ریونیسکو کی تعلیمی کمیٹی کے صدر) مدعو تھے۔آپ نے مشرقی اور مغربی اقتدار کی نوعیت پر سکر دیا۔اس موقعہ پر محترم مولود احمدخاں صاحب نے بین الاقوامی امن سے متعلق اسلامی نظریہ پیش کیا۔۲۲ر جون کو برطانیہ کے ایک در پیسٹر ایک پادل کے اعزاز میں ڈر دیا گیا ، آپ برطانوی پاپینٹ کے ممتاز رکن رہے تھے۔جنگ عظیم کے دوران فوج میں بریگیڈیر تھے اُردو خوب جانتے تھے مولانا حالی سے متاثر بھی تھے اوران کے مداح بھی اس تقریب کا آغازہ مولود احمد خان صاحب کے خطاب سے ہوا جس میں آپ نے واضح کیا کہ دنیا میں اسلام پر امن جدوجہد اور تبلیغی مساعی کے ذریعہ پھیلا ہے له الفضل دار تاریخ ۲۷ نومبر ۱۹۵۶ء