تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 385 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 385

٣٠ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بہت کچھ زبان درازی اور تلخ کلامی کی۔ایک دن جب عدالت برخواست ہوئی۔تو اس نے از راہ شرارت بہت سی دل اگزار باتیں عدالت کے عملہ کے سامنے جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس باتی علیہ السلام کے خلاف کہیں اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب " سلسلہ احمدیہ کھول کر اس میں سے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا فوٹو لوگوں کو دکھایا۔جونہی اس فوٹو پر حاضرین کی نظر پڑی تو سب نے ایک از بیان ہوکر کہا کہ تم مرزا صاحب پر اعتراض کرتے ہو۔لیکن فوٹو سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت بڑے جہا پرش اور سنت آدمی تھے۔یہ ریمارکس سن کر کنج بہار میلال کو بہت شرمندگی ہوئی۔اسی مقدمہ کے دوران اس نے " ذکر حبیب ( مصنفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے سیشن بحج کو حضور اقدس کا ایک فوٹو دکھایا۔اس پر جچ صاحب بے ساختہ کہہ اٹھے کہ نوٹو سے تو مرزا صاحب بہت نورانی معلوم ہوتے ہیں سید حضرت مصلح موعود کی اہم نصائح 1 سید نا حضرت مصلح موعود نے ۴ ار دسمبر ۱۹۵۶ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- اور دوستوں کو یا د رکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ میں ہر انسان کے قریب ہوں اور یہ کہ میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں۔اور بیس کے قریب ضد تعالی ہودہ اکیلا نہیں ہو سکتا۔بے شک حضرت مسیح موعود نے کتفی حالت میں اپنے باز پر یہ تحریہ فرمایا کہ # ☑ میں اکیلا ہوں اور خدا میرے ساتھ ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اکیلے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نظروں میں تو میں اکیلا ہوں لیکن حقیقتہ خدا میرے ساتھ ہے۔اگر خدا کے ساتھ ہونے بھی کوئی شخص اپنے آپ کو اکیلا کہتا ہے تو اس کی مثال اس ! بے وقوف کی سی ہوگی جو اپنے باپ کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔کہ رستہ میں ڈاکہ پڑا اور چور ائن کا مال لوٹ کرلے گئے۔جب کسی نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا تو اس نے کہا چور تے لاٹھی دو جنے میں نے باپو کھلے۔پس جو خدا کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی کہتا ہو کہ میں اکیلا ہوں تو یہ اس کی ہیں تو نی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان له الفرقان ربود در ویشان قادیان نمبر مهر ماه