تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 24 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 24

۲۴ راولپنڈی میں اس نے واضح لفظوں میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ اگر اس وقت خلیفہ عبد المنان ما خلافت کا اعلان کر دیں تو سینکڑوں ہزاروں احمد ہی ان کے ہاتھ پر بیعت کرنے کو تیار ہیں۔اور تلواریں چل سکتی ہیں۔میاں ناصر احمد کے بہت دشمن ہیں۔اور موت تو سر یک کو آتی ہے۔آخر خلیفہ صاحب نے بھی مرنا ہے۔اس لئے دیکھنا دو سال کے اندر اندر کیا ہوتا ہے۔خلیفہ صاحب ، عبد الوہاب صا عمر اور خلیفہ عبد المنان صاحب یعنی خلیفاؤں کی اولاد کے سخت دشمن ہیں۔کیونکہ ان کو ڈر ہے کہ کسی وقت یہ لوگ بر سر اقتدار آ سکتے ہیں۔نیز کہا میں نے تمام پاکستان کا دورہ کیا ہے۔اس لئے میرے ساتھ مکتر لینا آسان کام نہیں ہے۔اُدھر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے بیٹے اور اُن کے ہمنوا در پردہ پراپیگنڈا کہ رہے تھے۔اور ادھر لطف و کرم کا ایک دریا موجزن تھا اور حضرت مصلح موعور ان کے امید وار خلافت یعنی میاں عبد المنان عمر صاحب کو اپنی عنایات سے مسلسل نواز رہے تھے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے انہیں نائب وکیل التصنیف کے عہدے پر فائز فرما دیا جو ایک بہت بڑا اعزانہ تھا۔۱۹۵۶ کی مجلس شوری میں وہ اس کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ه ارجون ستاد کو انہیں ربوہ سے انٹر نیشنل سیمینار کارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں لیکچر کے لیے روانہ ہونا تھا۔اس لیکچر کی دعوت حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خصوصی سفارش پر ہاورڈ یونیورسٹی نے دی تھی۔پروگرام کے مطابق یہ بین الا قوامی مذاکرہ علمیہ ۱۲ جولائی سے ۲۲ اگست ۱۹۵۶ تک مقدر تھا یہ میاں عبد المنان صاحب روانگی سے قبل مری میں حضور کی خدمت میں بغرض اجازت نہ دعا حاضر ہوئے۔تو حضرت مصلح موعود نے انہیں کمال شفقت سے اجازت دی اور دعاؤں سے رخصت کیا۔نیز زبانی ہدایات دینے کے علاوہ تحریری طور پر یہ ارشاد فرمایا ا خلفیه بیان چو ہدری بشیراحمد ولد چوہدری شاہ محمد صاحب ساکن اے ، اے ۱۴۸۶ اکال گڑ ھے راولپنڈی مؤرخہ ۲۸ جولائی ۶۱۹۵۶: له الفضل و ارجون ۱۹۵۶ء صل