تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 365 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 365

۳۵۰ متعدد وفود نے فرانس ، نیوزی لینڈ، فلپائن، تھائی لینڈ، انگلستان اور امریکہ کے چالیس سر بر آوردہ مندوبین کو انگریزی ترجمہ القرآن اور دیگر دینی کتب تحفہ پیش کیں اور انہیں دین حق کا محبت بھرا پیغام پہنچایا۔شوند و میں نے یہ لٹریچر شکریہ کے ساتھ قبول کیا ہے حضرت مصلح موعود کی زیر ہدایت ربوہ میں نفرت انڈسٹریل نصرت انڈسٹریل سکول راجوہ کا قیام وای ای ان میں امام ہوا اور تر برابر بیگم صاحبہ بنت چودھری عبد الرحمن صاحب راولپنڈی اس سکول کی پہلی ہیڈ مسٹرس مقرر ہوئیں۔حضرت مصلح موعود نے سکول کے اجراء پر ایک مشین خریدنے کے لیے ساڑھے چار صد روپے کا عطیہ دیا۔علاوہ ازیں منہ مرکز یہ کراچی ضلع گجرات مضلع لاہور، راولپنڈی ، سیالکوٹ ، حیدر آباد ، اوکاڑہ اور نبرد بی کی لجنات نے مشینیں خرید کر دیں۔اسی طرح شیخ محمد محسن صاحب لائلپور اور مظفر حسن صاحب کی اہلیہ نے بھی اس کار خیر میں حصہ لیا۔سانید کے اجتماع پر پہلی بار سکول کی طرف سے صنعتی نمائش لگائی گئی 1900ء میں سرکاری طور پر یہ سکول منظور ہوا اور پہلی مرتبہ ۹۶ء میں 9 طالبات نے ڈپلوما کا امتحان دیا جوسب کامیاب رہیں۔اس کے بعد اب تک خواتین اور بچیوں کی ایک بھاری تعداد اس سکول سے دستکاری کا ڈپلوما حاصل کرنیکی ہے ہے ۱۹۵۶ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہراحمد صاحب کا مکتوب لندن اسم المصاب بخرین تعلیم اندی طاہر میں مقیم تھے۔آپ اپنی تعلیمی مصروفیات کے باوجود نہ صرف لنڈن مشن کی تقریبات میں پر جوش حصہ لیتے تھے بلکہ انفرادی طور پر بھی دعوت الی اللہ میں سرگرم عمل رہتے تھے جس کا کسی قدر اندازہ درج ذیل مکتوب سے لگ سکتا ہے جو آپ نے ۱۶ رمئی ۱۹۵۷ء کو لنڈن سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں تحریر فرمایا :- له الفضل مار مارچ ء ما : تفصیل کے لیے دیکھیں تاریخ لجنہ جلد دوم من تا ملا مؤلفہ محترمہ امر اللطیف صاحبہ سیکر ٹری شعبہ اشاعت لجنه مرکز به ربوہ۔اشاعت جنوری ۱۹۷۲ ء