تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 321
۳۲۱ ر ولادت حضرت شیخ اللہ بخش صاحب بیعت ۶۱۹۰۵ وفات ۲۲ دسمبر ۶۱۹۵۶ آپ بنوں میں پیدا ہوئے محکمہ آبکاری کے انسپکٹر رہے۔۱۹۳۶ء میں ریٹائرڈ ہو کر قادیان گئے ہ کچھ عرصہ معادن ناظر امور عامہ رہے۔محلہ دارالرحمت کے پریذیڈنٹ تھے تقسیم کے بعد پھر بنوں آگئے۔نماز جمعہ آپ کی بیٹھک میں ہوتی تھی اور مرکز سے آنے والے احباب آپ کے ہاں بھڑتے تھے آپ نے دو بیوائیں چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں یادگار چھوڑ دیں لیے زار شیر بہادر صاحب قیصرانی و ولادت قریبا ۶۱۸۷۶ : بیعت احمدیت سے پہلے شیعہ خیالات سے تعلق رکھتے تھے۔و فات ۲۸ دسمبر ۶۱۹۵۶ ) احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک عشق تھا۔تبلیغ کا شوق جنون کی حدتک پہنچا ہوا تھا۔بہت رقیق القلب بزرگ تھے۔نماز اس قدر خشوع وخضوع سے پڑھتے کہ دیکھ کر حیرت آتی تھی۔نماز میں آنسوؤں کا سیلاب رواں ہو جاتا۔اور سینہ ابلتی منڈیا کی طرح جوش مارتا تھا- دفات سے چند روز پہلے بذریعہ رڈیا آپ کو بتایا گیا کہ اللہ تعالی کو آپ کی گریہ وزاری بہت پسند آئی ہے اور اُس ذات مقدس نے آپ کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔آپ قیصرانی چیف فیملی کے رکن تھے۔پہلے صوبیدار بنے۔اور بالآخر رسالدار بی ایم پی کے عہدے پر ترقی کر کے پینشن پر ریٹائر ڈ ہوئے ہے سط الفضل ۱۵ جنوری ۱۹۵۷ء م۲ : ۲ الفضل ۶ فروری ۱۹۵۷ء م۵