تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 313
٣١٣ بھی ہم رکاب تھے۔اور اختار بیت کی تقریب میں میں شرکت کی۔اپریل ۱۵ء میں منظر جو مہدی نفر امد خالصا حب سے ہجرت کر کے قادیان تشریف لے گئے۔اور ہار نومبر سال کو حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوئی انتقال فرما گئے۔اور جماعت میں ایک خلاء پیدا ہوگیا جین کو اسلامی اعتبار سے پر کرنے کی توفیق جن بزرگوں کو ملی اُن میں آپ سر فہرست تھے۔آپ نے تقریباً پندرہ برس اسسٹنٹ سیکرٹری کے عہدہ پر کام کیا۔پریذیڈنٹ کے فرائض بھی انجام دیئے نیز ہر قسم کی خدمت کی یہاں تک کے چپڑاسی اور نقیب بھی بنے۔اور آٹا اکٹھا کرنے کی ڈیوٹی تک بجا لاتے رہے حالانکہ آر خود سپورٹ کے سامان کے تین کارخانوں کے مالک تھے جن کی شاخیں پونا ، کو ہاٹ ، بنوں ، کراچی ایبٹ آباد میں قائم تھیں۔نیز آپ کے ماتحت قریباً چالیس کار می گرا دور ملازم کام کرتے تھے۔جن میں ایک انگریز میٹر ہنٹر بھی تھا۔اس سلسلہ میں آپ کے سپرد آخری خدمت سیکرٹڑی دھمایا کی سپرد کی گئی۔۱۹۲۷ء کی پہلی اور تاریخی مجلس مشاورت میں آپ سیا لکوٹ سے بطور نمائندہ شامل ہوئے آپ کا نام مطبوعہ رپورٹے صفحہ ۲ پر موجود ہے۔علاوہ ازیں ۱۹ء سے ۱۹۳۶ء تک کے دوران اکثر سالوں میں بھی آپ کی شمولیت ثابت ہے یہ آپ اپنے بڑے لڑکے میجر آفتاب احمد صاحب نظام کے ہاں کرشن نگر لاہور میں مقیم تھے کہ آخری بلاوا آگیا۔آپ خدا کے فضل سے موصی تھے مگر ماننا لا ہور میں سپرد خاک کیسے گئے۔شہ اولاد ہے محترمہ احمد بی بی صاحبہ را علیه با بوحکم دین صاحب مرحوم) ٹرانسمین ایم ای ایس سیالکوٹ۔حتر مہ آمنہ بیگم صاحبہ راہلیہ ڈاکٹر میاں محمد اشرف صاحب مرحوم گجرات ) محترمہ صالح بیگم صاحبہ راہلیہ محمد اسلم صاحب رکھی۔کوہاٹ) ۴- محترمہ علیمہ بیگم صاحبہ ر اہلیہ میاں عبد الکریم صاحب ٹمبر مرچنٹ جہلم) - مکرم میجر آفتاب احمد صاحب نظام (ریٹائرڈ) لاہور چھاؤنی کریم بیشتر احد صاحب نظام ربوه - - کریم محمد احمد صاحب نظام مرحوم ربوہ کے اولین فوٹو گرافر ) مندرجہ بالاحالات آپ کی بھی ہوئی قلمی یاد داشتوں سے مرتب کیے گئے ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں در شنت تاریخ احمدیت میں محفوظ ہیں۔ہ سے الفصل ۲۴ اگست ۱۹۸۶ء مہ