تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 309 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 309

٣٠٩ حضرت مستری نظام الدین صا آن سیالکوٹ د ولادت سیاه - بیعت آخر دسمبر ۹۶ راد به وفات ۱۸ اگست ۱۵۶/ حضرت مستری نظام الدین صاحب جماعت احمدیہ سیالکوٹ کے قدیم بزرگوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان عشاق میں سے تھے جنہیں ایک لمبا عرصہ تک اہم جماعتی خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔آپ نے حضرت اقدس کی پہلی بار زیارت ضروری سماء میں کی جبکہ حضور مسجد حکیم حسام الدین سیالکوٹ میں دنی افروز تھے آپ ان دنوں پانچویں جماعت میں پڑھتے تھے۔بعد ازاں آپ کو سیالکوٹ میں حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کے درس قرآن میں شمولیت کے مواقعے سے اور پھر ان کی نہ بان سے لاہور میں لیکچر اسلامی اصول کی فلاسفی کوشن کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کرلی جیسا کہ آپ خود تخریہ فرماتے ہیں :۔در خاکسار شہر سیالکوٹ کا رہنے والا ہے۔کام سپورٹ کا کرتا ہوں شا میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم و مغفور کا درس قرآن سنا کرتا تھا۔ان کی صحبت سے متاثر ہو کر کے ماہ دسمبر میں جلسہ د حرم مہوتسو میں بہمراہی مولوی صاحب مرحوم لاہور گیا۔اور وہ جلسہ تمام کا تمام بغور سنتا رہا۔دن کو جلسہ ہوتا تھا تو رات کو شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم کی کو بھی پر تمام رہتا تھا۔وہاں پر شیخ صاحب کی پر سبز گاری اور دین داری یعنی نماز کی پابندی اور تہجد گزاری بھی دیکھنے میں آتی تھی۔جلسہ ہو تو میں میرے پاس بیٹھنے والوں میں سے ایک جج صاحب تھے ان کا رنگ سانولہ سا تھا ان کو غالباً ملک خدا بخش یا ملک اللہ بخش کہتے تھے دہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کی تقریب کے پڑھے جانے کے دوران میں زار زارو تے تھے۔میں سینے پر مفتی محمد صادق صاحب بھی تھے۔انہوں نے غالباً سبنر جو نہ پہنا ہوا تھا۔اور فل بوٹ پاؤں ہیں رکھتے تھے۔ان کی شکل وہاں پہلے دیکھنے میں آئی تھی۔جلسہ کا اثر سب پر تھا ، اور سب پر ایک سناٹا چھا یا ہوا تھا۔اور اللہ کی قدرت دحیرت کا ایک نظارہ تھا۔جلسہ کے اختتام کے بعد مولوی صاحب سے آپ کا نام سفر جہلم ۱۹۰۳ء کے مبالغین میں درج ہے (البدر ۲۳ - ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ ء م ) معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ نے دوبارہ بہجت کا شرف حاصل کیا۔