تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 308
اسی طرح آپ فرمایا کرتے تھے۔کہ آپ ایک فتنہ گوجرانوالہ گئے وہاں ایک مسجد میں آپ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔دیکھا کہ ایک آدمی مسجد کی سیڑھیوں سے باہر خدا تعالی کے متعلق نہایت ہی دل آزار کلمات کہہ رہا ہے۔جو گالیوں سے بھر پور ہیں۔آپ نے اس سے وجہ پوچھی۔کہ تو کیوں خدا تعالیٰ کو گالیاں دے رہا ہے اس نے جواب دیا کہ اگر کوئی خدا ہوتا۔تو مجھ سے ایسا سلوک نہ کرتا۔کہ میرے ہاں ایک لڑکا اور ایک لڑکی تھی۔لڑکا طاعون سے مر گیا ہے۔اور اب لڑکی کو بھی پھوڑا نکل آیا ہے۔اور اس کی نزرع لڑکی کی حالت ہے۔میں لڑکی کی اس حالت کو بہ داشت نہ کر کے گھر سے بھاگ آیا ہوں۔آپ نے فرمایا۔خدا کو گالیاں مت در آپ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔اور اس کو دور کرنے کے لیے کہا۔اور آپ نے بھی دھو گیا۔دو وضو سے فارغ ہو کر آپ نے فرمایا کہ میں نے اس کو اپنے دائیں گھڑا کر لیا۔اور دو رکعت نماز کی نیت کی جب میں سجدہ میں گیا تو میری اور اس شخص کی چیخیں نکل گئیں۔میں نے خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔کہ میرے پیارے خدا دیکھ یہ تیرا ایک ضعیف بندہ ہے۔اور تو قادر مطلق خدا ہے۔ایک نہایت ہی معمولی سی بات کی وجہ سے یہ تیرا بندہ تیری راہ سے گمراہ ہو رہا ہے۔اے میرے پیارے خدا تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔تو اپنے فضل سے اپنے اس بندے کو گمراہی سے بچا۔آدھ گھنٹہ تک سجدے میں دعا کی۔فرمایا کہ سجدے میں ہی خدا تعالٰی نے بتایا۔کہ لڑکی کو صحت ہو گئی۔آپ نے فرمایا ، کہیں سجدے سے اٹھا۔اور اس آدمی کو کہا کہ گھر جاؤ۔تمہاری لڑکی کو صحت ہو گئی ہے۔اس شخص نے جواب دیا کہ حضرت میں تو لڑکی کو نزع کی حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں۔اور اس پر اتنا سخت بخار ہے۔جس کا اندازہ ہی نہیں۔میں کسی طرح گھر جاؤں۔اگر میں گھر گیا تو یہی خبر سنوں گا۔کہ لڑکی مر چکی ہے۔اور یہ خبر میں کشن نہیں سکتا۔آپ نے رمایا کہ میں نے اس کو بہت مجبور کیا۔کہ گھر جاکر لڑکی کو دیکھو۔آخر چار و نا چار ڈرتے ڈرتے اس نے گھر کی طرف قدم اٹھا ئے۔جب وہ گھر پہنچا تو دیکھا کہ لڑکی چارپائی پر کھیل رہی ہے نہ بخار ہے اور نہ ہی پھوڑے کا کوئی الہ۔الغرض آپ کا وجود ہمارے لیے نیک با برکت بھارت ه الفضل ۲۳ جنوری ۱۹۵۷ ء مره