تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 307
دکان بند کر کے گھر آیا کرتے۔تو راستے میں اندر دن دہلی دروازے کے تاجروں کو تبلیغ کر نا شروع کر دیتے تھے۔بعض اوقات رات کے گیارہ بارہ بج جاتے۔لیکن آپ ہمہ تن تبلیغ میں مشغول ہیں۔اور ایک بہت بڑا مجمع لگ جایا کرتا تھا۔اس مجمع میں لوگ آپ کو مارتے پیٹتے تھے۔لیکن آپ نے ہرگزہ کبھی اس کی پرواہ نہیں کی تھی۔آپ کو حضرت میں موعود علیہ السلام سے عشق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات جب سنایا کرتے تھے تو آپ پر ایک رقت کا عالم طاری ہو جانا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بھی آپ کو عشق تھا۔جلسہ سالانہ کے آخری دن حضور ایدہ اللہ تعالیٰ حیب علمی تقریر فرما ر ہے ہوتے تھے۔تو آپ کے آنسو جاری ہو جاتے تھے۔اور منہ سے دعائیہ فقرات نکلتے تھے کہ اسے خدا خلیفہ وقت کی عمر لبی فرما۔اس کو صحت عطا فرما۔تاکہ آپ کے مبارک وجود سے ہم مستفید۔ہوتے رہیں۔آپ نہایت ہی رقیق القلب تھے۔بیٹھے بیٹھے سجدے میں گر جاتے تھے۔اور اسقدر بلند آواز سے گریہ وزاری کرتے تھے کہ ارد گرد بیٹھنے والوں پر بھی رقت کا عالم طاری ہو جاتا تھا ، نہایت ہی متقی پرہیز گار عالم با عمل تھے۔آپ کی زندگی سادہ تھی۔اپنی باطنی پاکیزگی کے ساتھ آپ کی ظاہری شکل وصورت بھی نہایت رعب والی تھی۔اور دیکھنے والوں پر ایک رعب طاری ہو جا تا تھا۔آپ مستجاب الدعوات تھے ایک دفعہ گردے کی درد ہوئی۔یہ درد اتنی شدید تھی کہ گھر والوں نے سمجھا کہ آپ چند گھنٹوں کے مہمان ہیں۔اس درد و الم کی شدید حالت میں آپ خدا تعالیٰ سے یوں مخاطب ہوئے کہ اے میرے پیارے محسن میں تیرا نہایت ہی عاجز و ضعیف بندہ ہوں۔اس درد کی برداشت نہیں کہ سکتا اے میرے حسن تو اس درد کے بغیر بھی مجھے موت دے سکتا ہے۔اگر میرے لیے موت ہی مقدر ہے۔تو اس درد کو کم کر کے مجھے موت دیدے۔کیونکہ میں اس درد کو برداشت نہیں کر سکتا۔اسی حالت میں آپ کی آنکھ لگ گئی۔کیا دیکھا کہ دو فرشتے دائیں اور بائیں کھڑے ہیں۔بائیں طرف والے فرشتے نے دائیں طرف والے فرشتے کو کہا کہ وقت تھوڑا ہے۔اپنے کام کو جلد ختم کر لو۔تب دائیں طرف والے فرشتے نے گردے والے مقام کو چیر دیا۔پھر گردے کو ہاتھ ڈال کر صاف کر دیا۔پھر اس زخم پر اپنا ہا تھ پھیر کر مقام کو متوازی کر دیا۔تب بائیں جانب والے فرشتے نے دائیں جانب دالے فرشتے کو مخاطب ہو کر کہا مبارک کہ تم نے اپنے کام کو وقت پر ختم کر لیا۔بعد ازاں آپ کی آنکھ کھل گئی۔فرمایا کرتے تھے کہ بائیں سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔لیکن فرشتے کے ہاتھ سے شفایافتہ گردے میں کبھی در دمحسوس نہیں ہوئی۔