تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 305 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 305

کیوں ہو گیا ہوں۔اس پر انہوں نے ایک سرکلر جاری کر دیا کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کوئی مدرس کسی لڑکے کو کوئی سزا نہ دے۔چنانچہ اس آرڈر کے آنے کے بعد مولوی زین العابدین صاحب اور ان کے ہم خیال استاد ڈھیلے پڑ گئے۔اور مجھ پر جو سختی کرتے تھے۔اس میں کمی ہو گئی۔خدا کے فضل سے میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اپنی تکالیف کا ذکر کرتا۔حضور نسلی دیتے اور فرماتے کہ کوئی بات نہیں خدا تعالے فضل کرے گا " ہے حضرت قاضی صاحب سیدنا حضرت مسیح موعود کی قبولیت دعا کا نشان تھے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے ۲۰ جولائی ۱۹۵۶ ء کے خطبہ جمعہ کے آخر میں ارشاد فرمایا :- دو نماز کے بعد میں ایک جنازہ پڑھاؤں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک پرانے رفیق قاضی محبوب عالم صاحب لاہور کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی میں یہ ان کی عادت تھی کہ وہ آپ کو ہر روز دعا کے لیے خط لکھا کرتے تھے۔اور اس کی وجہ یہ تھی کردہ ایک جگہ یہ شادی کرنا چاہتے تھے۔لیکن فریق ثانی رضا مند نہیں تھا۔اس لیے وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام کو لکھتے کہ حضور دعا فرما دیں یا تو لڑکی مجھے مل جائے یا اللہ تعالیٰ میرا دل اس سے پھیر دے اب مجھے یاد نہیں رہا کہ آیا ان کا دل پھیر گیا تھا۔یا ان کی اس لڑکی سے شادی ہو گئی تھی۔بہر حال دونوں میں سے ایک بات ضرور ہو گئی تھی۔پھر نہ صرف وہ خود اس نشان کے حامل تھے بلکہ ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک اور شخص کو بھی اپنے نشان کا حامل بنایا۔ہمارے ایک دوست نماسٹر عبد العزیز صاحب تھے۔جنہوں نے قادیان میں طبیہ عجائب گھر کھولا ہوا تھا۔اس وقت ان کا لڑکا مبارک احمد دواخانہ چلا رہا ہے اور ان کی دوائیاں بہت مقبول ہیں۔انہوں نے قاضی محبوب عالم صاحب کے متعلق سنا کہ وہ ہر روز حضرت مسیح موعود عليه الصلواۃ والسلام کو اس قسم کا خط لکھا کرتے ہیں۔تو انہوں نے بھی روزانہ خط لکھنا شروع کر دیا۔انہیں بھی ایک ذیلدار کی لڑکی سے جو ان کے ماموں یا پھوپھا تھے محبت تھی۔وہ روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو لکھتے اور کہتے حضور دعا فرمائیں۔کہ قاضی محبوب عالم صاحب کی طرح یا تو میرا دل اس ه روایات جلد مث من ۱۲ تا ۱۲۹ : نه ملک مبارک احمد خاں صاحب مرحوم امین آبادی ص ر دفات ۱۸ر دسمبر تا ، مدیر تریاق و رفتار زمانہ مراد ہیں جو سلس د احمدیہ کے ایک مخلص خادم بنے۔