تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 304
۳۰۴ سے داخل ہوا۔اور دوسرے کان سے تمام جسم سے ہو کر نکلتا ہے۔اور آسمان کی طرف جاتا ہے اور پھر ایک طرف آتا ہے۔اور اس میں کئی قسم کے رنگ ہیں۔سبز ہے سرخ ہے۔نیل گوں ہے۔اتنے ہیں کہ گنے نہیں جاتے تھے۔قوس قزح کی طرح تھے۔اور ایسا معلوم ہوتا تھا۔کہ تمام دنیا روشن ہے اور اس کے اندر اس قدر مرور اور راحت تھی۔کہ میں اس کو پہچان نہیں سکتا تھا۔مجھے صبح اٹھتے ہی یہ معلوم ہوا۔کہ اس رڈیا کا مطلب یہ ہے کہ آسمانی برکات سے مجھے را فرحصہ لے گا۔اور مجھے بیعت کر لینی چاہیے۔اس رڈیا کی بنیاد پر میں نے حضرت صاحب سے دوسرے روز ظہر کے وقت بہیت کے لیے عرض کیا۔مگر حضور نے منظور نہ فرمایا۔اور تین دن کی شرط کو بر قرار رکھا۔چنانچہ میرے روز ظہر کے وقت میں نے عرض کیا۔کہ حضور مجھے انشرح صدر ہو گیا ہے اور یہ میری بیعت قبول کریں۔چنانچہ حضور نے میری اپنے دست مبارک پر بیعت لی اور میں رخصت ہو کہ لاہور آگیا۔چوتھے روز میں سکول گیا۔تو مجھے ایک شخص مرزا رحمت علی صاحب آن ڈسکہ ہو انجمن حمایت اسلام میں ملازم تھے ، نے اپنے پاس بلایا۔اور فرمایا کہ تم چارہ دن کہاں تھے۔میں نے صاف صاف اُن سے عرض کر دیا۔کہ میں قادیان گیا تھا۔انہوں نے کہا بیعت کر آئے ہو۔میں نے کہا ہاں۔انہوں نے فرمایا کہ یہاں مت ذکر کرنا۔میں بھی احمدی ہوں۔اور میں نے بھی بیعت کی ہوئی ہے۔مگر میں یہاں کسی کو نہیں بتاتا۔تاکہ لوگ تنگ نہ کریں۔مگر میں نے ان سے عرض کیا۔کہ میں تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھونگا۔چاہے کچھ ہو۔چنانچہ ہمارے استاد مولوی زین العابدین صاحب جو مولوی غلام رسول قلعہ والوں کے بھانجے تھے۔اور ہمارے قرآن ، حدیث کے استاد تھے۔اُن سے میں نے ذکر کیا کہ میں احمدی ہو گیا ہوں۔اس پر انہوں نے بہت بُرا منایا۔اور دن بدن میرے ساتھ سختی کرنی شروع کر دی حتی کر دہ فرماتے تھے۔کہ جو مرزا صاحب کو مانے۔سب نبیوں کا منکر ہوتا ہے اور اکثر مجھے وہ کہتے تھے۔کہ تو بہ کرد - اور بیعت فسخ کرد۔مگر میں ان سے ہمیشہ قرآن شریف کے ذریعہ حیات وفات مسیح پر گفتگو کرتا۔جس کا وہ کچھ جواب نہ دیتے۔اور مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ جب ان کی گھنٹی آتی۔تو وہ مجھے مخاطب کرتے تھے۔او مرزائی۔پہنچ پر کھڑا ہو ا۔میں اُن کے حکم کے مطابق پنچ پر کھڑا ہو جاتا۔اور پوچھتا کہ میرا قصور کیا ہے۔وہ کہتے۔کہ یہی کافی قصور ہے کہ تم مرزائی ہو۔اور کافر ہو۔کچھ عرصہ میں نے اُن کی اس تکلیف دہی برداشت کیا۔پھر مجھے خیال آیا۔کہ میں پرنسپل کو ، جو نو مسلم تھے اور ان کا نام حکم علی تھا۔کیوں نہ جاکر شکایت کروں کہ بعض استاد مجھے اس وجہ سے مارتے ہیں کہ ہیں احمدی