تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 299
۲۹۹ حکام وقت ان کی ہی بات درست مانا کرتے تھے۔مجرموں کے اقربا د نے اہل جرگہ کو ایک موقع پر نقدی دینی چاہی مگر جب پتہ لگا کہ ان میں سے دانا کا ایک احمدی بھی ہے تو دوسرے نمبروں کو بھی نقدی نہ دی کہ احمدی نے کسی کی رو رعایت نہیں کرنی اور نہ اس نے نقد می لینی ہے اور فیصلہ بھی اس کی تخریہ یہ ہوگا اس لیے دوسروں کو رشوت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے با با بھاگ صاحب امرتسری در دیش قادیان رولادت : غالباً ۱۱۸۵۶ بیعت دستی : ۱۷ : وفات ۱۸ جون ۱۹۵۶) مرحوم راجپوت جنڈیال قوم سے تعلق رکھتے تھے اصل وطن موضع سمجھگتر دی ڈاکخانہ مکیر بیاں ضلع ہوشیار پور تھا۔۱۹۲۷ء میں وصیت کی۔اور ہجرت کر کے قادیان آگئے کیے اور آخر دم تک نہایت خاموشی، تنہائی اور دعاؤں سے درویشانہ زندگی بسر کی ہے خانبها در حضرت مولوی غلام محمد صاحب آن گلگت نگه ز ولادت ۶۱۸۷۱ : بیعت : ۲۰ جنوری ۱۸۹۲ء : وفات ۲۶ جون ۱۹۵۶ ۶ ) آپ کا اصل وطن بھیرہ تھا۔ملازمت کے دوران آپ گلگت۔لداخ اور کشمیر میں اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائزہ ہے۔ایک دن گلگت کے انچارج گورنر بھی رہے آپ کی شکل و شباہت حضرت صاجزادہ عبداللطیف صاحب سے بہت مٹی تھی۔نہایت سادہ مزاج۔مخلص اور متوکل بزرگ تھے۔ملازمت سے ریٹائرڈ ہو کر قادیان تشریف لے آئے۔اور تقسیم ملک کے بعد بھیرہ میں ہی رہائش اختیار کر لی اور یہیں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ بہلوہ میں سپرد خاک کئے گئے یہ کتاب گلگت کے تہوار اور عوامی روایات سه العمل - رستی ۱۹۵۷ ء م اور من و ته بدر تاریان اور تون ۱۹۵۶ دستہ ہم سے وہ بچوں جو مرجھا گئے ؟ ܀ حصہ اول من از چودری فیض احمد صاحب گجراتی در دین - ناظر بیت المال آمد قادیان پر الفضل ۱۲۹ جون ۱۹۵۶ اول نہ رجسٹر بیت اولی بہت بھیرہ کی تاریخ حدیث نگار ما مولا فضل الرحمن صاحب بسمل ربوہ سابق امیر جماعت احمدیہ بھیرہ - شہادت حضرت سید احمد نور کا بی صاحب ( حضرت شہزادہ عبد اللطیف شہید می ۱۱۵ و ۳۵) مرتبه دوست محمد شاہد - طبع دوم ۱۸۸۹ (۶) (باقی منت ۳ ماشیہ یہ