تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 293
۲۹۳ شناگر دی کا فخر حاصل ہے۔آپ نے مدرسہ احمدیہ کی تدریس کے دوران میں حضرت مسیح موعود کی کتب میں سے برا همین احمدیہ رچاروں حصے فتح اسلام - توضیح مرام از الداد عام کا ترجمہ کیا۔حضرت مولوی صاحب کی پہلی شادی حضرت منشی حبیب احمد صاحب کی صاحبزادی سکینہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔اس شادی کا واقعہ عجیب ہے۔چنانچہ شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کی روایت ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے پاس ہماری موجودگی میں منشی حبیب احمد صاحب تشریف لائے۔اور عرض کی حضور میری دو بیٹیاں ہیں میں چاہتا ہوں کہ ان کی ایسی جگہ شادی ہو کہ دو بھائی ایک گھر میں ہوں۔تاکہ دونوں بیٹیاں اکٹھی رہ سکیں۔حضرت مولوی صاحب نے حضرت ولوی غلام نبی صاحب مصری اور مولوی غلام محمد صاحب امرتسری کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا۔وہ یہ دونوں میرے بیٹے ہیں ان سے شادی کر دیں یا چنا نچہ استانی میمونہ بیگم صاحبہ کی مولوی غلام احمد صاحب سے شادی ہوئی اور محترمہ سکنہ بیگم صاحبہ کی مولانا ہے۔اس پہلی بی بی کی وفات کے بعد مولانا احمد خان صاحب نسیم کی ہمشیرہ محترمہ بیگم میں صاحبہ آپ کے عقد میں آئیں۔مگر اولاد کسی بیانی سے نہیں ہوئی ہے تقسیم ملک کے بعد آپ ربوہ میں مولانا احمد خان صاحب نسیم کے ہاں رہائش پذیر رہے ہیں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے الحکم ۲۱ ستمبر ۱۹۲۳ ء میں آپ کی سیرت د شمائل پر حسب ذیل نوٹ سپرد قلم کیا۔د مولوی غلام نبی صاحب قادریان میں با شکل جوانی کے ایام میں آئے۔اس زمانے میں آپ طالب علم تھے۔قادیان میں بسی سامی تعلیم مکمل کی اور یا پھر کچھ عرصہ مصر میں رہے۔قادیان میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور پھر قادیان میں ہی مدرسہ احمدیہ میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔اس سے پہلے مدرسہ سے باہر بھی طالب علموں کو درس دیتے رہے۔مولوی صاحب کی زندگی نو کی اہلی کا ایک زندہ نمونہ ہے اور اگر کسی شخص نے غور سے ان کی زندگی کا مطالع کیا ہو تو اس کو معلوم ہو جائے گا یہ شخص تو کل کے کس مقام پر بیٹھا ہے۔باوجود اس کے کہ انکر ابتداء میں بہت تھوڑ میں تنخواہ ملتی تھی گھر کبھی انہوں نے اس کی شکایت نہ کی اور اس پر بعض اوقات تنخواہ کئی ماہ بعد ملتی تو بھی ان کو گھبراتے ہوئے کبھی نہ دیکھا گیا۔له الفضل و رسٹی ۱۹۵۶ء م : له الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۵۶ در مشه