تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 292 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 292

٢٩٢ دہ حضرت اقدس کی کتابوں کی خوب اشاعت کر رہے ہیں۔حضرت مولوی صاحب مصر میں تین سال تک قیام کرنے کے بعد اپریل شاہ میں واپس اپنے طنز پہنچے۔اختبار بدنه ۲۰ را پریلی سلامت کالم م پر ان کی آمد کی خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی کہ ملک مصر سے مولومی غلام نبی صاحب احمد می واپس ہندوستان کو تشریف لائے ہیں۔قریبا تین سال تک انہوں نے اس ملک میں قیام کیا اور نیز سلسلہ احمدیہ کی اشاعت میں مصروف رہے ہیں " اس جگہ مولوی صاحب نے چند مخالفوں کے ساتھ مباحثات بھی کیے۔چنانچہ ایک مباحثه در باره حیات و وفات مسیح ناصری (بمعہ چند دیگر مفید رسائل کے) ملک مصرمیں اپنے خرچ پر طبع کر دیا تھا جس کی بہت سی دہ کا پہیاں اس جگہ لائے ہیں اس کا نام ہدیہ سعدیہ رکھا ہے کہ مصر سے واپسی کے بعد آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول نادیان کے استاد مقرر ہوئے اور ساتھ ہی آپ کو حضرت مولانا نورالدین خلیفہ المسیح الاوّل کے مطب میں کام کرنے اور آپ کی شاگردی میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔چنانچہ اختبار بذار ۱۲ جنوری شاہ منہ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ شکار میں جن خوش نصیب اصحاب ے نے آپ سے دینیات کی تعلیم حاصل کی ان میں حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب ، سید عبدالحی صاحب عرب ابر سعید صاحب عرب۔اور حضرت مولوی محمد جی صاحب داتوی کے علاوہ آپ بھی شامل تھے۔حضرت خلیفہ اسیح اول آپ سے بہت الفت رکھتے تھے۔مطلب میں ہوتے تو آپ بھی ساتھ ہوتے لا بر یر ی میں ہوتے تو یہ ہو نہار شاگرد وہاں بھی ساتھ رہتا۔حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی کی روایت ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الاول نے ایک بار حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری اور مولوی غلام محمد صاحب کے متعلق فرمایا۔ہم ان کی محبت اپنے ساتھ جنت میں لے جائیں گے۔۲۵ جنوری سنہ سے آپ کا تقریر مدرسہ احمدیہ کے استاد کی حیثیت سے ہوا۔اس وقت حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب ہیڈ ماسٹر تھے حضرت نے مولوی صاحب قریب پینتش سال تک اس مرکزی درسگاہ میں پڑھاتے رہے اور ش۹۲ میں ریٹائرڈ ہوئے سینے آپ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔سلسلہ کے اکثر ندیم مبلغوںاور ممتاز علماء کو آپ کی له روزنامه الفضل و مئی 1904 ء مث : سے روزنامه الفضل 9 مئی ۱۹۵۶ دمہ