تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 291 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 291

حضرت مولوی نور الدین خلیفہ ایسی اول کو کتا ہیں جمع کرنے کا ایک عشق تھا۔اس سلسلہ میں آپ کی نظر انتخاب آپ پر پڑی اور آپ نے انہیں نایاب اور قدیم کتابوں اور قلی نسوں کی نقل کرنے کے لیے بھوپال بھجوا دیا۔قیام بھوپال کے دوران آپ نے کمال محنت در فریزی سے کام لیا۔مگر کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا۔بھوپال میں ان دنوں مسجد میں بخاری شریف کا درس ہوتا تھا۔آپ بھی اس میں شامل ہو گئے۔اس درس سے سنو لوگ استفادہ کرتے تھے ،ان کو وظیفہ مل کرتا تھا۔چنانچہ آپ کا وظیفہ بھی جاری ہو گیا۔مگر یہ تم بہت معمولی تھی۔خداتعالی نے کھانے کا یہ انتظام فرمایا۔کہ حضرت مولانا نور الدین صاحب کے کسی شاگرد کے ایک عزیز سے آپ کی ملاقات ہوگئی میں نے کہا کہ کھانا آپ ہمارے ہاں کھا یا کریں۔اس زمانہ میں آپ نے مولوی فضل الدین جناب (وکیل) کو احمدیت سے روشناس کرایا وہ اپنے استاد کے پاس بھوپال اُٹھ آئے تھے۔ان کا آپس میں میل جول بڑھا۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب کو کتب نقل کرتے تھے ہفتہ کے بعد مولوی فضل الدین صاحب ساتھ بیٹھ کر مقابلہ کرا دیا کرتے تھے۔آپ کو بھوپال کے کتب خانہ سے بھی بعض کتب نہ مل سکیں۔اور معلوم ہوا کہ مصر سے دستیاب ہو سکیں گی۔اس پہ آپ بھوپال سے مصر کے لیے روانہ ہو گئے۔اُس وقت آپ کے پاس چند ایک روپئے اور ایک کمبل تھا کراچی آکر اسے فروخت کیا اور کرا یہ بناکر بصرہ جا پہنچے۔بصرہ سے آگے معرک کا سفر پیدل گیا۔اگر کوئی قافلہ مل جاتا تو اس کے ساتھ شامل ہو جاتے۔اور اگر کوئی ساتھی نہ ہوتا تو اکیلے روانہ ہو جاتے۔آخر مصر پہنچے۔فرمایا کرتے تھے کہ میں نے بھوپال سے چلتے وقت بھی حضرت مولوی نور الدین صاحب کو کوئی اطلاع نہ دی تھی۔اب مصر پہنچے کہ لکھا کہ میں مصر پہنچ گیا ہوں اور کہا میں نقل کر رہا ہوں۔وہاں کی لائبریری میں وہ کتب موجود تھیں۔لائیر یہ ہی میں چونکہ سیاہی ساتھ لے جانے کی اجازت نہ تھی۔اس لیے پنسل لے جاتے اور نقل کرتے ، گھر پہنچ کر اس کو سیاہی سے لکھتے۔اس کے علاوہ ازھر کے درس میں بھی شریک ہوئے اور باقی وقت گذر اوقات کے لیے مچھیری کا کام کرتے۔اس بے بضاعتی کے باوجود آپ نے مصر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی عربی کتابوں کی اشاعت کی چنانچہ اختبار البدر ر نومبررت شراء ماہ سے پتہ چلتا ہے کہ نومبر ستاد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں بھی آپ کی تبلیغی خدمات کا ذکر آیا تھا چنانچہ لکھا ہے۔دہ مولوی غلام نبی صاحب احمدی کا خط مصر سے حکیم الامت مولوی نور الدین صاحب کے نام آیا تھا۔۱۴