تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 275
۲۷۵ سے کسی کو لٹریچر پسند آگیا۔اور اس نے آگے تبلیغ شروع کر دی۔پہلے سوال بیعتوں کی اطلاع آئی تھی اس کے بعد ستائیں بیعتیں آئیں گویا ہم ہو گئیں۔اس کے بعد پھرا ٹھا نہ بیعتیں آئیں۔یہ سارے مل کر 41 ہو گئے۔اور اب اطلاع آئی ہے کہ اور لوگ بھی تیار ہیں۔بلکہ انہوں نے لکھا ہے کہ جتنے کالج کے لڑکے ہیں یہ سارے مسلمان ہو جائیں گے اور احمدی بن جائیں گے۔تو فلپائن گورنمنٹ نے ہمارا رستہ روکا تھا۔لیکن خدا نے کھول دیا ہے اور جہاں ایک مسلمان کو بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔وہاں 4 آدمی بیعت کر چکا ہے اور کالج کے باقی سٹوڈنٹ کہتے ہیں کہ ہمیں جلدی بیعت فارم بھیجو۔ابھی انہوں نے منو بیت فارم کے متعلق لکھا ہے۔کہ جلدی بھیجو سب لڑکے تیار ہو چکے ہیں اب حسن ملک کے کالج کے لڑکے مسلمان ہو جائیں گے سیدھی بات ہے کہ وہ بڑے بڑے عہدوں پر مقرر ہوں گے۔اور جہاں جائیں گے اسلام کی تبلیغ کریں گے کیونکہ اسلام چیز ہی ایسی ہے کہ جو ایک دفعہ کلمہ پڑھ لیتا ہے پھر وہ چپ نہیں رہ سکتا میرے دوست پر وفیسر ٹاک اس وقت یہاں بیٹھے ہیں جب میں بیماری میں علاج کرانے گیا تھا۔تو ہمبرگ بھی گیا۔مولوی عبد اللطیف صاحب جو ہمارے مبلغ ہیں وہ ان کو لائے اور کہنے لگے یہ پروفیسر ملٹاک ہیں ان کو اسلام کا بیڑا شغف ہے یہ کیل میں یونیورسٹی کے پر دنیسر ہیں۔آپ کا ذکر سنکر کیل سے آئے ہیں۔مگر کہتے ہیں میں نے الگ بات کرنی ہے میں نے کہا بڑی خوشی سے بلالو اور لوگ چلے جائیں۔چنانچہ وہ آگئے انہوں نے تھوڑی دلیہ بات کی اور پھر کہنے لگے میں نے بیعت کرنی ہے میں نے کہا بہت اچھا کر لیجیے۔میں نے پوچھا اسلام سمجھ لیا ہے کہنے لگے ہاں میں نے سمجھ لیا ہے۔گر کسی کو پتہ نہ لگے میں بڑا مشہور آدمی ہوں میں نے کہا بہت اچھی بات ہے تمہیں آپ کو مشہور کرنے کا کیا شوق ہے۔آپ کی خدا سے صلح ہوگئی۔کافی ہے۔چنانچہ اس کے بعد پاس کے کمرہ میں کچھ حجر من دوست نماز پڑھنے کے لیے آئے تھے۔میں نمازہ پڑھانے کے لیے اس کمرہ میں گیا جب نماز پڑھ کے میں نے سلام پھیرا۔تو دیکھا۔کہ صف کے آخر میں وہ پر دفیسر ٹمٹاک بیٹے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ میرا کسی کو پتہ نہ لگے۔میں نے مولوی عبد اللطیف صاحب سے ہا کہ پروفیسر صاحب سے ذرا پوچھو کہ آپ تو کتنے تھے کہ میرے اسلام کا کسی کو پتہ نہ لگے اور آپ تو سلے جرمنوں کے سامنے نما ز پڑھ رہے ہیں تو اب تو پتہ لگ گیا۔کہنے لگے میں نے پوچھا تھا یہ کہنے لگے ہیں نے سمجھا کہ یہاں ان کے آنے کا کیا واسطہ تھا خدا انہیں میری خاطر لایا ہے۔تو اب خلیفہ کے پیچھے