تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 14 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 14

۱۴ اسے نہیں مانے گا۔ہم تو میاں عبدالمنان عمر کو خلیفہ تسلیم کریں گے۔عزیزہ بیگم صاحبہ نے جھڑک کر کہا کہ وہ خبیث کون ہیں۔اس پر انہوں نے جواب دیا کہ دیکھنا اس وقت تم لوگوں کا ایمان بھی قائم نہیں رہے گا۔اور یہ کہہ کہ وہ اسی وقت گھر سے باہر مل رہئے لے دومر : - 1902ء کا واقعہ ہے کہ ڈاکٹر محمد شفیع صاحب نثار پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ طالب آباد کے سامنے گوٹھ رحمت علی متصل بر اینچ میں مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کے ایک پر درد ہ شخص بشیر احمد نے کہا کہ جماعت احمدیہ کی خلافت کا حق مولوی نورالدین صاحب کے بعد اُن کی اولاد کا تھا۔لیکن میاں محمود احمد صاحب نے (نعوذ باللہ) ظلم سے ان کا حق غصب کرکے خلافت پر قبضہ کر لیا ہے۔اب ہم لوگ عینی خاندان حضرت خلیفہ اول اور ان کے غیر احمد میں رشتہ داری اس کوشش میں ہیں کہ خلافت کی گندی مولوی صاحب کی اولاد کو ملے۔اور اب حق بحقدار رسید" کے مطابق جلد ہی یہ معاملہ طے ہو کر رہیگا لیے حضرت خلیفہ اول کے بیٹے اپنے خاندان میں خلافت کو منتقل کرنے کے لیے کسی خاص موفقے کی تلاش میں تھے۔یہ موقع انہیں حضرت مصلح موعود کی بیماری اور سفر یورپ شاہ کے دوران میتر آگیا۔اس زمانے میں انکی سرگرمیاں یکا یک بڑھ گئیں۔اور میاں عبد الوہاب نے کھلے لفظوں میں یہ ناپاک پراپیگنڈا شروع کر دیا کہ خلیفہ وقت بوڑھا ہو چکا ہے۔کسی اور کو خلیفہ منتخب کر لینا جائے نیے شیخ نصیر الحق صاحب آف لاہور کا حقیقت افروزمیان شیخ نصیر الحق صاحب آف لاہور کا بیان ہے کہ سفر یورپ کے سلسلہ میں جب حضور لاہور سے بخیریت کراچی پہنچ گئے تو جو دھامل بلڈ نگ لاہور میں نماز مغرب کے بعد مجھے سید بہاول شاہ صاحب نے تار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ الحمدللہ حضور بخیریت کراچی پہنچ گئے ہیں۔جب له الفضل ۲۲ اگست ۱۹۵۶ ، ص د بیان عزیز بیگم صاحبه دخترمحبوب علی مرحوم آف مالیر کومله) له الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۵۷ء ص : سے مکتوب چوہدری اسد اللہ خانصاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور ۲۵٫۲۴ سیولائی ریکارو د خلافت لائبریری بوده - ایمنا الفضل ۶۱۹۵۶ ۳/۲۰