تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 13
طور پر ایسے عناصر شامل تھے جن سے سلسلہ کے مرکزی نظام کو پہلے ہی شکایات تھیں۔اور جو یا تو وقف زندگی کے عہد کو توڑ کر غداری کے مرتکب ہو چکے تھے یا وقف زندگی ہونے کے باد جود وقف سے بھاگنا چاہتے تھے۔اور جماعتی نظام سے تنخواہیں اور بھاری بل وصول کرنے کے باوجود مرکز احمدیت میں بیٹھ کر تحریک وقف زندگی کے خلاف پراپیگینڈا کیا کرتے تھے۔اور ربوہ کی ابتدائی اور خام تعمیرات کا نہایت بے شرمی سے مذاق اڑایا کرتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کے مرکزی ریکار و ۱۹۵۶ء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ۹۵لہ کے آخر کا واقعہ ہے۔ربوہ میں بعض ایسے فتنہ پردازوں کی باقاعدہ بانی پرس کی گئی تو وقیع اور چشمدید گواہوں سے ان کا جرم ثابت ہو گیا۔جب یہ معاملہ تحقیقات کے بعد حضرت مصلح موعود کی خدمت پیش کیا گیا تو حضور انور نے فرمایا کہ میں اپنی ذات کے بارے میں تو معاف کر سکتا ہوں سلسلہ کے معاطے میں معاف نہیں کروں گا۔یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے ربوہ سے چلے جانے کے بعد ۲۳ نسبت روڈ لاہور میں اپنا اڈا قائم کرلیا۔اب ابنائے حضرت خلیفہ اول جو آئندہ خلافت کے خواب دیکھ رہے تھے، اپنی سکیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی اور ان نام نہا د احمدیوں کے ذریعہ جماعت میں شدومد کے ساتھ باغیانہ خیالات پھیلانے لگے۔جس کے ثبوت میں دو واقعات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔اول : ۱۹۵۵ء میں سید منور شاہ صاحب دلد سید فضل شاہ صاحب رساکت نواں پینڈ ا حمد آبا ومتقتل قادیان) حضرت مرزا اشریف احمد صاحب کی بندوقوں کی دکان واقع لاہور میں ملازم تھے۔وہ ربوہ میں اپنی خالہ زاد بین عزیزہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی محمد صادق صاحب مربی سلسلہ سیرالیون کے پاس ملنے کو آئے اور ایک دن باتوں باتوں میں یہ ذکر کیا۔کہ ایک گروہ نوجوانوں کا ایسا ہے جو کہتا ہے کہ موجودہ خلیفہ کے بعد اگر خلافت پر مرزا ناصر احمد صاحب کو جماعت نے بٹھایا تو ہماری پارٹی میں سے کوئی بھی ن * لہ ریکار ڈ خلافت لائبریری ۵۶ ۱۹۵۶ء : سلے یہ کو بھی سیحر نصر اللہ صاحب پسر چو ہدری نعمت الله خان صاحب بیگم پوری کے تمام مات تھی۔