تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 12 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 12

پوچھا کہ یہ شخص کی کارروائی ہے ؟ حضرت مولوی صاحب اپنی تقریر ختم کر کے بیٹھ گئے تو میاں عبدالوہاب صاحب نے جھٹ اُٹھ کر معافی مانگ لی۔اور اعتراف کر لیا۔کہ میں شخص نے یہ بات کی ہے وہ میں ہی ہوں۔میاں عبد الوہاب صاحب نے درویشی کے اس دور میں سلسلہ کے اموال کو خوردبرد کرتے ہوئے ہندوؤں کے پاس جماعتی سٹور کے برتن بھی بیچنے شروع کر دیئے۔امیر الدین صاحب سٹور کیپر نے تین بار انہیں برتن بیچتے پکڑا اور انہوں نے تینوں بار بیت المبارک میں ہی حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ کے سامنے معافی مانگی۔حضرت مولوی صاحب نے اُن سے کہا کہ اگر یہاں برتن ہی بیچتے ہیں تو آپ پاکستان ہی تشریف لے جائیں۔اس پر میاں صاحب امیر دین صاحب کو اپنے گھرلے گئے اور کہا کہ تو نے بڑا کیا۔اگر میری شکایات نہ کرتا تو کیا ہوتا۔یا درکھو قادیان حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وجہ سے آباد تھا۔ہم تو پاکستان چلے جائیں گے اور برتن بھی پک کر رہیں گے لیکن قادیان اب آباد نہ ہو سکے گا۔ان مذبوحی حرکات کی بناء پر قادیان کی مقامی تنظیم نے مشورہ کیا کہ ان کو جلد از جلد واپس پاکستان بھیج دیا جائے۔چنانچہ اس بارہ میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو قادیان سے فون کیا گیا اور اُن کے ذریعہ۔بوہ سے اجازت حاصل کر کے اُن کو پاکستان واپس بھیج دیا گیا ہے میاں عبدالوہاب صاحب کے پاکستان میں پہنچنے کے بعد حضرت خلیفہ اول کے صاحبزادوں نے مولوی محمد اسماعیل صاحب غزنوی کے ساتھ مل کر دوبارہ نظام خلافت کے خلاف محاذ قائم کر لیا۔اور عبد اللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں کی طرح جنہوں خلیفہ رسول حضرت عثمان عنی کے خلاف پورے عالم اسلام میں ایجی ٹیشن بر پا کر دیا اور انہیں شہید کر دیا۔ایسے آوارہ مزاج نو جوانوں سے اپنے خصوصی مراسم وروابط تیزی سے بڑھانے شروع کر دیتے جو نام نہاد احمدی تھے۔اور نظام جماعت کی مخالفت و تضحیک اُن کا شیوہ تھا۔ان میں خاص۔سے خط ڈاکٹر بشیر احمد صاحب در دلیش قادیان مورخه ۱۲۸ جولائی ۱۹۵۶ و ، بیان احمد دین صاب آن کوئٹہ سابق در دیش تا دبیان ، بیان امیرالدین صاحب سیمنٹ بلڈنگ رتن باغ لاہور سابق در ویش تا دیان - بیان مرقومه ۱۴ را گست ۶۱۹۵۶ د ریکارڈ خلافت لا مهریه ی ره بوه)