تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 222 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 222

۲۲۲ حضرت مصلح موعود نے ۱۲ اکتوبر ۱۹۵۶ کو قرآنی زاویہ نگاہ سے اس نازک مسئلے کا ایک فیصلہ کن حل پیش فرمایا۔جو دنیائے تفسیر میں ایک شاندار اضافہ ہے۔حضور نے یہ حل خطبہ جمعہ کے دوران بیان فرمایا۔جس کے دو اقتباسات درج ذیل کیے جاتے ہیں۔فرمایا :- (۱) ہر نظام اپنے ساتھ اپنے نمبروں کے لیے کچھ سہولتیں رکھتا ہے۔اگر وہ نظام دین ہو تو اس نظام کو چھوڑنے والا ان تمام سہولتوں سے جو اس نظام میں دینی تر تی اور اس کی اشاعت کے لیے رکھی گئی ہوں۔محروم ہو جاتا ہے۔اور اگر اس نظام دینی پر چلنے والے بچے ہوں تو اللہ تعالیٰ باہر سے اور آدمی لے آتا ہے۔جو پہلوں کے قائمقام ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوْا مَنْ يَرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي الله يقوم يحبهم وَيُحِبُّونَةٌ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ (المائده : ۵۵) على الكفرين۔یعنی اسے ایمان والو! اگر تم میں سے کوئی ایک شخص بھی تمہارے نظام دینی سے الگ ہو جائے تو اللہ تعالے اس کے بدلہ میں تمہیں ایک قوم دے گا۔جو مومنوں کے ساتھ نہایت انکسار کا تعلق رکھنے والی اور کفارہ کی شرارتوں کا نہایت دلیری سے مقابلہ کرنے والی ہوگی۔اس آیت میں اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کہ نظام دینی سے الگ ہونے والوں کے مقابلہ میں ہمارا کیا سلوک ہوتا ہے ، گرافسوس ہے کہ آجکل بعض مسلمان علماء نے لفظ ارتداد کو الیسا بھیانک بنا دیا ہے کہ وہ بالکل ایک نئی چیز بن گیا ہے۔حالانکہ ارتداد کے صرف یہ معنے ہیں کہ انسان ایک نظام کو چھوڑ کر کسی اور نظام میں شامل ہو جائے۔خدا تعالٰی نے یہ کہیں نہیں کہا کہ ایسے آدمی کو قتل کر دیا جائے۔جیسا کہ بعض مسلمان علماء غلطی سے ایسا سمجھتے ہیں۔بلکہ اس نے یہ اعلان کیا کہ اگر واقعہ میں تم مومن ہو تو جو تمہارے نظام کو چھوڑے گیا۔اس کے متعلق تم کو کچھ کرنے کا حکم نہیں۔بلکہ اس کے متعلق ہم ایک ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک ایک شخص جو تمہارے نظام کو چھوڑے گا۔اس کے بدلہ میں ہم ایک ایک نوم کفار میں سے لا کر تمہارے اندر داخل کر دیں گے۔جن سے خدا محبت کرے گا اور جو خدا سے محبت کریں گے۔لیکن مسلمان علماء یہ سمجھتے ہیں کہ نظام دینی سے الگ ہونے والے کی گردن کاٹ دینی چاہیئے۔حالانکہ