تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 220 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 220

٣٢٠ اس کا ترجمہ یہ ہے منجانب (مسٹر ہنری تھامس در سن ڈانا تھامس - معرفت مینو د ر ہاؤس پبلیشرز ۵۷۵ میڈیسن ایونیو نیویارک - ۶ ردسمبر ۶۱۹۵۶ ہمیں اپنی کتاب کے ناشرین کی معرفت آپ کا خط ملا ریعنی ہمارے میلے کا نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کتاب "مذہبی راہنماؤں کی سوانح عمریاں، میں ہمارے مضمون کے متعلق عرض ہے کہ یہ معلوم کرکے کہ نبی اکرم کے متعلق ہمارے انداز تحریر د احساسات کے متعلق بعض غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں ہمیں بہت رنج اور افسوس ہوا۔ہمارا ہمیشہ سے یہ اعتقاد رہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم دنیا میں جمہوریت کی بنیادی مظہر ہے اور کہ مذہب اسلام کے اصول امریکی سابق پریذیڈنٹ ریس کو ہ تقریبا نیوں کی طرح سمجھتے ہیں) ابراہیم لنکن کی فلاسفی کا براہ راست منبع و ماخذ ہیں ریعنی ہم ابراہیم لنکن کو اپنا لیڈر سمجھتے ہیں اور بڑا بزرگ سمجھتے ہیں مگر ہمارا یقین ہے کہ ابراہیم لنکن نے جو ان کی تعلیم پھیلائی مھتی وہ براہ راست اس نے محمد رسول اللہ ﷺ سے حاصل کی متقی خود نہیں بنائی تھی) اس امر کے با وجود کہ ہمارے مضمون کو جسے ہم نے کتاب کے ایڈیٹر کی زیر ہدایت تحریر کیا تھا لکھے پندرہ سال ہو گئے اور کتاب لکھوانے میں مرتب کا منشاء و مقصد سوائخ عمری کی تحریر میں مغربی تہذیب میں رنگین ہو کہ قارئین وناظرین کے مزاج کو مد نظر رکھتے ہوئے انسانیت کی پہنچ پر افسانوی رنگ دینا تھا ر یعنی ہم نے قصے کے رنگ میں لکھی تھی میں سے میں یورپ کے لوگ زیادہ فائدہ اٹھا سکیں) یہ امر بھی ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم کسی صورت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلی عالمانہ مقام کی بے قدری یا تخفیف کر یں اس وجہ سے ان غلط فہمیوں پر جن کا واقعہ ہونا ہمیں بتایا جارہا ہے ہمیں نہایت درجہ علم اور افسردگی ہے۔بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کتاب آپ تقریہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس میں ہم آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔اگر آپ ہماری کتاب کا ذکر فرما دیں تو ہم ممنون ہوں گے آپ اپنے ناظرین تک ہمارا یہ پیغام بھی پہنچا دیں کہ ہماری کتاب کے متعلق نا رافق اور مخالفت رو عمل پر ہمیں کتنا السوس ہوا ہے اور کیا آپ یہ بھی انہیں پہنچا دیں گے کہ مذہب اسلام سے دنیا کو جو بڑی نعمت عطا ہوتی ہے اس کی عیب جوئی یا تنقید میں آپ ہمیں تمام دنیا کے لوگوں سے آخری فرد پائیں