تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 169 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 169

179 کے موقعہ پر آئندہ خلافت کے انتخاب کے متعلق یہ بیان فرمایا تھا کہ پہلے یہ قانون تھا کہ مجلس شوری کے ممبران جمع ہو کہ خلافت کا انتخاب کریں۔لیکن آجکل کے فتنہ کے حالات نے ادھر توجہ ولائی ہے کہ تمام ممبران شوری کا جمع ہونا بڑا المیا کام ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس سے فائڈ اٹھاکر منافق کو فتنہ کھڑا کر دیں۔اس لیے اب میں یہ تجویز کر تا ہوں جو اسلامی شریعت کے عین مطابق ہے کہ آئندہ خلافت کے انتخاب میں مجلس شوری کے جملہ ممبران کی سجائے صرف ناظران صدر انجمن احمدیہ ممبران صدر انجین احمدیہ - وکلاء تحریک جدید خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زندہ افراد جن کی تعداد اس غرض کے لیے اس وقت تین ہے۔یعنی حضرت صاحبزادہ مرزا البشير احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب میاں عبد اللہ خان صاحب) جامعتہ المبشرین کا پرنسپل۔جامعہ احمدیہ کا پرنسپل اور مفتی سلسلہ احمدیہ مل کر فیصلہ کیا کریں۔مجلس انتخاب خلافت کے اراکین میں اضافہ جلسہ سالانہ تشہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے علماء سلسلہ اور دیگر بعض صاحبان کے مشورہ کے مطابق مجلس انتخاب خلافت میں مندرجہ ذیل اراکین کا اضافہ فرمایا۔۱۔مغربی پاکستان کا امیر۔اور اگر مغربی پاکستان کا ایک امیر مقرر نہ ہو تو علاقہ جات مغربی پاکستان کے امرا ء جو اس وقت چار ہیں۔مشرقی پاکستان کا امیر - ۳۔کراچی کا امیر - ۴۔تمام اضلاع کے امرا ء۔۵۔تمام سابق امرا ء جو دو دفعہ کسی ضلع کے امیر رہ چکے ہوں۔گو انتخاب خلافت کے وقت امیر نہ ہوں۔ران کے اسماء کا اعلان صدر انجمن احمدیہ کرے گی)۔امیر جماعت احمدیہ قادیان - ، - ممبران صدر انجمن احمد یہ قادیان - ۸ - تمام زنده رفقاء کرام کو بھی انتخاب خلافت میں رائے دینے کا حق ہو گا۔راس غرض کے لیے رفیق وہ ہو گا جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو دیکھا ہو اور حضور کی باتیں سنی ہوں اور ار میں حضور علیہ السلام کی وفات کے وقت اس کی عمر کم از کم بارہ سال کی ہو۔صدر