تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 134
۱۳۴ کے سر تھوپنے کی وجہ بھی یہی ہے کہ جماعت راجہ نے آج سے قریباً پندرہ دن پہلے آپ کو یہ بھانڈا پھوڑ دیا تھا کہ خلافت سے دستبرداری کے یہ معنے ہیں کہ پہلے کبھی خلافت کا دعوی کیا تھا۔پس یہ ہیڈ نگ خود آپ کے گزشتہ اعلانات کی تردید کرتا ہے۔آپ نے سمجھا کہ چلو گے ہاتھوں اس سیڈ نگ کی بھی صفائی کر دو۔حالانکہ اگر آپ کا یہ دعویٰ صحیح ہے۔کہ یہ میٹنگ کو ہستان کے ایڈیٹر نے بد دیانتی سے خود دیا تھا۔تو سوال یہ ہے کہ کو ہستان کو یہ مضمون بھیجنے کیلئے مشورہ آپ کو کیا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے دیا تھا۔یا جماعت احمدیہ نے۔آپ نے یہ مضمون براہ راست حضرت خلیفۃ المسیح الثانی یا امور عامہ کوکیوں نہ بھیجا۔تا کہ اس وقت اس کی حقیقت کھل جاتی۔پھر جب یہ نومبر کے پرچہ میں آپ کے قول کے مطابق کوہستان نے آپ پر جھوٹ بولتے ہوئے ایک غلط ہیڈ نگ اس مضمون پر لگا دیا تھا۔تو آپ نے بارہ نومبر کو یہی مضمون اس کو دوبارہ چھاپنے کے لیے کیوں بھیجا۔اور کیوں ۱۴ نومبر کے پرچے کے فوراً بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی یا امور عامہ کو نہ لکھا کہ یہ مہیڈ نگ میں نے نہیں دیا سلسلہ کے دشمن ایڈیٹر نے اپنے پاس سے لکھدیا ہے۔اور کیوں اس بات کا انتظار کرتے رہے کہ پہلے ریوہ کا ریزولیوشن الفضل میں چھپ جائے۔تو پھر اس کی تردید کریں۔یہ بات نبھی آپ کی دیانت کے خلاف دلیل ہے۔کہ آپ نے یہ مضمون چار تاریخ کے کوہستان میں چھپوایا۔پھر بارہ تاریخ کے کوہستان میں چھپوایا۔پھر تیرہ تاریخ کو یہ مضمون پروفیسر تا منی محمد اسلم صاحب کو کراچی بھجوایا۔اور ان پر یہ اثر ڈالنے کی کو ستنش کی کہ مجھ پر ظلم کیا جارہا ہے۔اور لکھا کہ آپ کو غلط واقعات سے مسموم کیا جارہا ہے۔آپ کے بھائی قاضی عطاء اللہ صاحب ایم اے نے واقعات کی چھان بین کی اور وہ اصل بات سمجھ گئے۔چنانچہ مجھ سے ملاقات کے وقت انہوں نے نفرت کا اظہار نہیں کیا قاضی صاحب نے اپنا بیان اور آپ کا خطہ ہمیں بھجوا دیا ہے اور ہمارے پاس موجود ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ کوشش کر رہے ہیں کہ جماعت پر ظاہر کریں کہ آپ پر ظلم کیا جارھا ہے۔یہ کوشش خود اپنی ذات میں آپ کی سلسلہ سے دوری کا ثبوت ہے اور ہم خدا قالے کا شکر کرتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے وقت پر آپ کو جماعت سے خارج کر دیا۔گو آپ کے طریق معمل کے مطابق یہ کانی متھا کہ ہم الفضل میں چھپوا دیتے۔لیکن ہم براہ راست