تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 129 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 129

۱۲۹ کر لیا۔جب تک آپ کا مضمون آپ کے دستخط سے حضرت خلیفہ المسیح کی خدمت ہیں۔یا امور عامہ میں نہیں آتا سلسلہ کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی الفضل“ اُسے چھا پہلے گا۔" ** ۱۹ - آج کی تاریخ ۲۶ ۱۱/۵/ ۲۵) تک مولوی عبد المن: " صاحب کے کیس کی یہ پروگریسی رہی ہے جس کا اجمالی نقشہ میں نے احباب کے سامنے پیش کر دیا ہے۔مولوی عبد المنان صاحب کا آخری خط جو بظاہر عقیدت کا حفظ ہے اُن کے پہلے خط کی طرح اُن کی پوزیشن کو صاف نہیں کرتا۔اس میں بھی انہوں نے نہ اپنے اور یہ عامد شدہ الزامات کی کوئی وضاحت کی ہے۔نہ پیغامیوں کے اعتراضات کا جواب دیا ہے۔نہ اُن لوگوں سے واضح رنگ میں بیزاری کا اظہار کیا ہے جنہوں نے ان کو اپنا ساتھی ظاہر کر کے حضور اور جماعت کے خلاف اسقدر پر دیگنڈا کیا ہے۔بلکہ جہاں تک مرکز کی اطلاعات کا تعلق ہے وہ اب بھی ان لوگوں سے با قاعدہ رابطہ رکھ رہے ہیں اور تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں۔ان حالات میں جماعت کے دوست سمجھ سکتے ہیں کہ مولوی عبد المنان صاحب کا یہ خط بھی کوئی معنے نہیں رکھتا۔بلکہ اگر کوئی شخص یہ قیاس کرے کہ انہوں نے یہ بھی ایک چال چلی ہے اور اسطرح حالات سے نا واقف افراد کے دلوں میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ تو معافی مانگ رہے ہیں لیکن خلیفہ اسے ان کو معاف نہیں کرتے۔اور اس طرح سے حضور کے خلاف بھی پردیسگنڈا کیا جا رہا ہے۔تو اُسے بھی غلط نہیں کیا جا سکتا۔جماعت کے دوستوں کو ان کو الفت کی روشنی میں سمجھ لینا چاہیئے کہ مولوی عبد المنان صاحب نے آج تک اپنی صفائی اور بہ بیت کے لیے صحیح راہ اختیار نہیں کی اور خصوصاً اس طریق کے مطابق ایک دفعہ بھی حضور سے معافی کی درخواست نہیں کی جس کا ذکر آج سے بہت پہلے حضور اپنے خطبہ میں فرما چکے ہیں۔والسلام خاکسار عبد الحق صوبائی امیر