تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 128 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 128

۱۲۸ اس خط میں مولوی عبد المنان صاحب نے حضرت خلیفة اسم الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے عقیدت اور اخلاص کا اظہار کیا ہے۔لیکن سب سے زیادہ حیرانگی کی بات ہے کہ یہ خط انہوں نے نہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھیجا ہے اور نہ ہی نظارت امور عامہ میں۔بلکہ سلسلہ کے ایک شدید معاند اخبار میں انہوں نے اسے شائع کروایا ہے۔" الفضل " جو سلسلہ کا اخبار ہے اور اس غرض کے لیے باقی تمام اخبارات سے زیادہ موز دوں اور اہم تھا اُسے بھی کو منان میں شائع ہونے کے دو ہفتے بعد 19 نومبر کو یہ مضمون بھجوایا گیا۔۱۵ - الفضل" کے نام مولوی صاحب کا جو خط وصول ہوا وہ " الفضل " نے نظارت امور عامہ کو بھیجوایا۔نظارت امور عامہ نے اس کے جواب میں مولوی صاحب کو جو خط لکھا اُس کے چند اقتباسات یہ ہیں ہے آپ اس امر کو بخوبی سمجھتے ہوں گے۔کہ اگر آپ اپنی عقیدت اور اخلاص کے اظہار کے لیے ایسے خطوط لکھ رہے ہیں تو اس کے اولین مخاطب خود سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ذات ہونی چاہیے۔لیکن یہ امرمیر ے لیے حیرانگی کا موجب ہے کہ آپ نے تادم تحریر یہ خط یا اس کی کوئی نقل حضور کی خدمت میں نہیں بھجوائی۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر اس خط کے نتیجے میں آپ نظام سلسلہ کی طرف سے کسی کا رروالی کی توقع رکھتے ہیں تو تب بھی ایسا کرنا ضروری تھا کہ حضور کوسب سے پہلے یہ خط لکھا جاتا یاکم از کم نظارت امور عامہ کو لکھا جاتا۔لیکن اس کے برعکس آپ نے سلسلہ کے ایک شدید دشمن اخبار میں یہ خط شائع کر دیا۔اور ایک دفعہ نہیں دو دفعہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نیت اپنی برأت کرنا نہیں۔بلکہ خلیفہ اسیح کے خلاف پر ویکنڈا کرنا ہے اب بھی آپ نے جو خط لکھا ہے وہ الفضل" کو لکھا ہے۔اور ظاہر ہے کہ آپ کے ایسے مظاہرہ کے بعد" الفضل " آپ کا خط شائع نہیں کر سکتا جب تک آپ یہ نہ بتائیں۔کہ آپ نے کیوں حضرت خلیفہ اسیح کو خط نہیں لکھا۔اور کیوں سلسلہ کے شدید دشمن اخبار میں دو دفعہ اس خطہ کو شائع