تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 116
117 بخش دے۔ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے، آلودگیوں اور آلائشوں کے ہر دھبہ کو ہم سے دور کر دے۔اپنے قرب کی راہیں عطا کرے ہر طرح ہمارا حافظ و ناصر ہوں، اور ہر قسم کے فتوں اور ابتلاؤں کے بڑے انجام سے بچائے۔وہ ہم سے اور ہم اُس سے راضی ہوں۔وہ اپنی رحمت کا ہاتھ بڑھا کر ہماری جان میں اپنی گہری طلب پیدا کر دے۔علم وعمل کی طاقتیں بخشے اور ایسا پانی نازل کرے جو دلوں کی کدورتوں کو دھو دے۔اور اسلام۔قرآن مجید اور پاک محمد مصطفے - لی اللہ علیہ وسلم جو اپنی قوت قدسیہ اور تکمیل حلق میں اکمل داستم نہیں ہمارا جان ومال اس وجودِ اقدس پر قربان) کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔کہ ہم اسی راہ کی خاک ہیں۔خاکساره عبد المنان عمر مورخہ ۲۱ صفر ۱۳۷۷۶ ھ مطابق ۲ ستمبر ۱۱۹۵۶ اس پہلو وار اور مہم بیان نے جماعت کے تمام حلقوں کی آنکھیں کھول دیں۔اور ان پر روشن کی طرح واضح ہو گیا کہ حضرت خلیفہ اول کے اس صاحبزادے کی تمام تر ہمدردیاں بھی غیر مبائع اصحاب سے ہیں جو ساری عمر اُن کے مقدس والد اور اُن کی خلافت کے خلاف نبرد آنہ مار ہے۔یہ سوال بھی پیدا ہوا۔کہ جو لوگ عداوت محمود میں یہاں تک بڑھ چکے ہیں کہ حضرت مصلح موعود کی ذات والا صفات کے بارے میں کوئی کلمہ خیر لکھنا برداشت نہیں کر سکتے تھے ، مولوی عبد المنان صاحب کے بیان کو نہایت طمطراق کے ساتھ ملی حروف میں شائع کرنے پر آمادہ کیسے ہو گئے جبکہ مولوی صاحب کا عقیدہ اُن کے ذاتی نظریات سے ہم آہنگ نہیں تھا۔حضرت مصلح موعود نے مولوی صاحب کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا :- عبد المنان کو ہی دیکھ لو حبیب رہ امریکہ سے واپس آیا تو میں نے سرمی میں خطبہ پڑھا اور اس میں میں نے وضاحت کر دی کہ اتنے امور ہیں وہ ان کی صفائی کر دے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔وہ یہاں تین ہفتے بیٹھا رہا لیکن اس کو اپنی صفائی پیش کرنے کی توفیق نہ لی صرف اتنا لکھ دیا کہ میں تو آپ کا وفادار ہوں۔ہم نے کہا ہم نے تجھ سے وفاداری کا عہد نے پیغام صلح ۳ اکتوبر ۱۹۵۶ء صت