تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 98
کے پیشوا ہیں اور اب چونکہ آپ کی صحت اچھی نہیں بعض اصحاب اس کوشش میں ہیں کہ احمد می جماعت کے آئندہ خلیفہ ان کی پسندیدہ شخصیت ہوں۔احمدی جماعت میں آئندہ کے خلیفہ کے متعلق یہ خانہ جنگی خلاف توقع نہیں کیونکہ شاید ہی کوئی مذہب ایسا ہو گا جو جانشین کے متعلق خانہ جنگی کا شکار نہ ہوا۔چنانچہ سکھوں میں گورو نانک کے انتقال کے بعد آپ کے ایک صاحبزادہ نے گورو ہونے کا دعویٰ کیا اور وہ ناکام رہے اور پھر اس کے بعد ایک دوسرے گرو صاحب کے صاحبزاد ہے رام سرائے نے گورد ہونے کا دعوی کیا۔اور آپ نے حکومت وقت کی امداد سے ڈیرہ دون میں اپنا مذہب چلانا چاہا مگر آپ کو بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔اور سکھوں کے بعد رادھا سوامی فرقہ میں بھی ان کے گور و صاحب جی مہاراج کے بعد ایک تو ان کے بڑے صاحبزادے نے گورو ہونے کا اعلان کیا اور ان کے ٹائپسٹ نے بھی گوررہونے کا اڈہ جہانا چاہا نگران کو کامیابی نہ ہوئی۔چنانچہ احمد می جماعت کی اس خانہ جنگی کے متعلق ہماری رائے یہ ہے کہ آئندہ کی خلافت کا مسئلہ موجودہ خلیفہ حضرت بشیر الدین محمود پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کیونکہ اس مسئلہ میں وہی سب سے بڑی امتھارٹی ہیں جن کے خلیفہ ہونے کا دنیا کے تمام احمدی اقرار کر چکے اور اس کی صورت یہ ہے کہ یا تو موجودہ خلیفہ اپنی حیات میں ہی آئندہ کے خلیفہ کا اعلان کر دیں اور یا ایک وصیت کے ذریعہ آپ اس کا فیصلہ کر دیں اور اس وصیت کو راز میں محفوظ رکھا جائے جس پر آپ کے انتقال کے بعد عمل ہوتا کہ یہ جماعت خانہ جنگی کا شکار نہ ہو اور تمام احمدی اس وصیت پر عمل کرنا اپنا ایمان اور فرمن سمجھیں راستے اس دورمیں پاکستانی اخبارات نے جس طرح مغربیانہ پراپیگنڈا مفتیانہ پراپگینڈا اورجھوٹی اور دل آزار خبریں کی اور جھوٹی خبریں جھیل میں ان کے دین نے ملاخطہ ہوں۔مرز امحمود کے قریبی حلقے اس بات پر مصر ہیں کہ مرز امحمود کے بعد ان کے صاحبزادے مرزا ناصر یا کسی دوسرے کو خلیفہ منتخب کر لیا جائے کچھ لوگ اس پہ مصر ہیں کہ چو دھری ظفر اللہ ره بیفتند دارد که یاست دہلی ، استمبر ۱۹۵۶ ر مت کالم ۴۳ یم