تاریخ احمدیت (جلد 18)

by Other Authors

Page 85 of 846

تاریخ احمدیت (جلد 18) — Page 85

سکتا ہے تو کبھی دست بردارنہ ہوتے کیونکہ خلافت حقہ کا چھوڑنا ارشاد نبوی کے مطابق منع ہے۔مگر حضرت علی نے بھی غلطی نہیں کی۔اس وقت حالات نہایت نازک تھے۔کیونکہ خوارج نے بغاوت کی ہوئی تھی۔اور دوسری طرف معاویہ اپنے لشکروں سمیت کھڑے تھے۔انہوں نے ایک چھوٹی سی تبدیلی کو بڑے نامہ پر ترجیح دی کیونکہ حضرت حسن کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشگوئیاں موجود نھیں ممکن ہے کہ حضرت علی نے اور احتیاطیں بھی کی ہوں جن سے جمہور مسلمانوں کے حق محفوظ کہ دیا ہو۔گروہ مجھے اس وقت یاد نہیں۔مرز الحمود احمد - ۹۲ ۸ رات قرآن مجید کی رو سے فتنوں پر تند تر کرنے کی تحریک اگست تششدر کو حضور نے جماعت کو تحریک فرمائی کہ قرآن کریم پر غور اور تربیہ کرتے رہو کہ اس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی چالوں کو کھول کر بیان کر دیا ہے۔چنانچہ حضور نے اس روز جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اس کے ابتدائی حصہ میں بتایا کہ : در آجکل ہماری جماعت ہیں منافقین کا فتنہ شروع ہے۔چونکہ قرآن کریم میں بھی فتنوں کا ذکر آتا ہے اور اُن کی ساری چالیں بیان ہوئی ہیں۔اس لئے جماعت کے دوست علاوہ صحابہ کے حالات کے، اگر قرآن کریم کی ان آیات کو بھی غور سے پڑھیں تو انہیں ان کی ساری باتوں کا پتہ لگ جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ جب منافقوں کو ان کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔تو وہ قسمیں کھاتے ہیں اور کہتے ہیں۔ہم نے تو کوئی ایسی بات نہیں کی۔اللہ تعالی فرماتا ہے۔ان کی قسمیں کھانا ہی ان کی منافقت کا ثبوت ہے۔کیونکہ قسم ضرورت کے وقت کھائی جاتی ہے۔اور جو شخص بلا ضرورت قسمیں کھاتا ہے۔وہ منافق ہوتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَّهِين کہ تو ہر قسم کھانے والے ذلیل انسان کی اطاعت نہ کر یعنی اگر کوئی شخص تمہارے پاس آکر قسمیں کھاتا ہے تو تو اس کی قسموں پر اعتبا نہ کرتے ہوئے اس باستہ کو نہ مان الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۵۶ ء م : سه سوره قلم : ۱)