تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 47 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 47

ہیجان برپا کر دیا۔ازاں بعد وسط اگست سے شدید سیلابوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جس نے نہ صرف مشرقی بنگال بلکہ صوبہ پنجاب کے مندرجہ ذیل سات اضلاع کو بھی اپنی پیٹ میں لے لیا :- ڈیرہ غازیخان ، لاہور ،سیالکوٹ ، شیخو پورہ ، لائل پور (مال فیصل آباد ، منٹگمری (ساہیوال) ، ملتان۔یہ وسیع علاقہ گویا ایک سمندر بن گیا۔بہت سی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ، لاکھوں من غلہ بہر گیا اور اربوں کی جائیدادیں اس ہولناک طوفان کی نذر ہوگئیں۔جماعت احمدیہ ملک بھر کی واحد دینی جماعت تھی جس کے محب وطن ، انتھک اور فرض شناس جوانوں نے زلزلہ اور سیلاب سے پیدا شدہ صورت حال سے نپٹنے میں حکومت پاکستان کا ہر ممکن طریق سے ہاتھ بٹایا اور اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی اعانت کے لئے اپنے اموال اور اوقات کی ہر مطلوبہ قربانی پیش کر دی۔اس نازک موقع پر احمدی پروفیسر، احمدی طلبہ ، احمدی ڈاکٹر ، احمدی معمار ، احمدی تاجر، احمدی وکیل ، احمدی زمیندار ، احمدی کارکن غرضیکہ ہر طبقہ کے مخلصین نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔جو جماعتیں اور مجالس براہِ راست زلزلہ اور سیلاب سے متاثر تھیں ، انہوں نے بھی ایثار کا نمونہ دکھاتے ہوئے دوسروں کی خدمت کا حق ادا کر دیا اور جو علاقے بالکل محفوظ رہے تھے ان کی احمدی تنظیموں نے نقدی، خوراک پوشاک اور ادویہ سے گرانقدر امداد کی اور ڈاکٹر اور معمار اور دوسرے رضا کار لے اس آفت سے کوئٹہ کے ۱۲ نواحی دیہات یا تو بالکل زمین بوس ہو گئے یا انہیں انتہائی شدید نقصان پہنچا۔جن میں ایک گاؤں کئی عالموں بھی تھا۔کوئٹہ کے احمدی نوجوانوں نے اپنے امیر میاں بشیر احمد صاحب اور قائد مجلس شیخ محمد حنیف صاحب (حال امیر جماعت احمدیہ بلوچستان) کی راہنمائی اور سر پرستی ہیں اس گاؤں کا انتخاب کیا اور اس میں ۲۲ فروری سے ۷ ار اپریل تک وسیع پیمانے پر امدادی خدمات انجام دیں اور زلز ایسے متاثرلوگوں کو دیگر ضروریات زندگی مہیا کرنے کے علاوہ اپنے ہاتھوں متحد مکانا تعمیر کئے۔(الفضل برکوه ۱۶ مارین شات - ماہنامہ "خالد ربوہ جنوری ۱۹۵۶ء ۲۲ - ۴۶ ) ۶ ما