تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 523
۵۲۳ اندر پیدا کرے اور اگر اس راہ میں اسے اپنی جان ، اپنی عزیز سے عزیز نئے اور مال کو چھوڑنا پڑے تو دل میں میں نہ آنے دے۔خلیفہ جب کوئی فیصلہ کرے وہ صحیح ہو یا غلط بیعت کنند کا یہ فرض ہے کہ وہ دل میں میں لائے بغیر انشراح قلب کے ساتھ اسے قبول کرے۔اس پر عمل پیرا ہو اور اطاعت کا نہایت اعلیٰ نمونہ دکھائے۔اس کے لئے اخلاص کا ہونا ضروری ہے۔اخلاص کے باوجود انسان سے کمزوری ظاہر ہو سکتی ہے۔لیکن اگر انسان کی نیت صاف سیدھی اور کھری ہو تو خدا تعالیٰ اس کے بداثر سے اسے محفوظ رکھتا ہے حضور نے فرمایا۔جب میں بیعت لیتا ہوں تو ساتھ ساتھ میں خود بھی بعیت کر رہا ہوتا ہوں اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے حضور جواب دہ سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ان بصیرت افروز ارشادات کے بعد حضور نے اجتماعی بیعت کی۔اس تاریخی موقع پر الفارو ویت دہراتے ہوئے عجیب ربودگی طاری تھی۔دعا بھی ایک خاص شان کی حامل تھی خشوع و خضوع اور درد و الحاج کا یہ عالم تھا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ روحیں آستانہ الہی سپر پانی کی طرح بہہ نکلی ہیں لیے ۵ اگست کو حضور نے گیارہ بجے قبل دو پہر احمد یہ مشن ہاڈکس اوسلو کی پریس کانفرنس انا لائبریری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور جماعت احمدیہ کے اغراض و مقاصد عالمی سطح پر اس کی مذہبی اور فلاحی سرگرمیوں۔نیز اسلام اور نوع انسانی کے مستقبل سے متعلق اخبار نویسوں کے سوالات کے نہایت تسلی بخش جواب دیئے۔پریس کانفرنس میں گفتگو زیادہ تر انگریزی زبان میں ہوئی اور نارویجین زبان میں ترجمانی کے فرائض مکرم کمال یوسف صاحب اور نور احمد صاحب بولستاد نے انجام دیئے۔اخبار نویسیوں نے ایک سوال یہ کیا کہ یورپ میں اب تک کتنے لوگ احمدی ہوئے ہیں۔حضور نے فرمایا یہ صحیح ہے کہ دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں یورپ میں بہت کم لوگ احمدی ہوتے ہیں اور ابھی اُن کی تعداد چنداں قابل لحاظ نہیں ہے لیکن ہم اپنی حیات کا مدارہ تعداد پر نہیں رکھتے۔بلکہ ایمان اور اخلاص پر رکھتے ہیں۔ایسے صاحب ایمان مخلص و وفا شعار ه روزنامه الفضل ١٣ ستمبر ۱۹۸۳ء ص۴۳ م۔