تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 519 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 519

۵۱۹ شہر اوسلو کے وسط میں بہت عمدہ علاقے میں تین منزلہ عمارت ہے راور انہوں نے لکھا ہے کہ ہماری جماعت کی ضرورتیں پوری کر کے دو خاندانوں کے رہنے کی گنجائش یعنی دو کوارٹر بھی نکل آئیں گے ) وہ خریدی گئی۔۱۵ لاکھ کرونے ہیں۔یہ بہت اچھی جگہ ہے عین اُس کے سامنے وہاں کے بادشاہ کا ایک پارک ہے، بادشاہ کے نام پر موسوم۔اس کے دوسری طرف بادشاہ کا محل بھی ہے لیکن بہر حال سامنے کھلا پارک ہے۔اس کے سامنے سٹرک ہے۔سٹرک کے اس طرف وہ بڑا اچھا بنا ہوا مکان بڑی موٹی پتھر کی دیواریں سروے وغیرہ کروا کے انجنیر سے پھر وہ تقریدا گیا۔یہ نئی جگہ مل گئی ، حضرت خلیفہ السیح الثالث مسجد نور او سلو کے افتتاح کے لئے ۳۱ جولائی کو گوٹن برگ سے بذریعہ کا رہ روانہ ہوئے۔احباب نے آپ کو دلی دعاؤں سے خصت کیا۔شام ساڑھے سات بجے حضور مسجد نور پہنچے۔احباب جماعت نے پرتپاک نعروں سے حضور کا استقبال کیا۔حضور نے سب سے پہلے احباب سے مصافحہ فرمایا۔پھر مسجد میں دو نفل ادا کئے۔اس کے بعد حضور نے مبلغ ناروے مکرم کمالی یوسف صاحب اور مبلغ سویڈن مکرم منیر الدین احمد صاحب کی معیت میں پہلی منزل اور اس کے تہہ خانہ کا تفصیلی معائنہ فرمایا۔اس موقع پر سویڈن ڈنمارک، مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ اور انگلستان کے متعدد احمدیوں کے علاوہ مکرم کمال یوسف صاحب (مبلغ ناروے)، کرم منیر الدین احد صاحب - مکرم حامد کریم صاحب (مبلغین سویڈن ) بکریم سید مسعود احمد صاحب (مبلغ ڈنمارک مکرم نواب زادہ منصور احمد خان صاحب ( مبلغ بیمه منی )۔مکریم تقسیم مہدی صاحب و مبلغ سوئٹزر لینڈ ) کرم منیر الدین شمس صاحب (سبلغ انگلستان)۔اور مکرم کرم الہی صاحب ظفر و مبلغ سپین )، اس موقع پر موجود تھے حضور نے پونے تین بجے ناروے کی سب سے پہلی مسجد میں نماز جمعہ پڑھائی اور اس کا باضابطہ افتتاح فرمایا حضور نے مساجد کا تقدیس اور ان کی اہمیت پر انگریزی زبان میں ایک مختصر مگر میر معارف خطیہ دیا، جس میں واضح فرمایا کہ تمام عبادت گاہیں اللہ ہی کی ملکیت ہیں مسجد کے دروازے تمام ان احباب کے لئے کھتے ہیں۔تو خدائے واحد کی پرستش کرنا چاہیں۔اس تاریخ سانہ افتتاحی تقریب کے موقع سے یہ اس ملک کا سکہ ہے۔سہ روزنامه الفضل ۲۶ فروری ۱۹ء ص۔