تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 510 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 510

۵۱۰ پانچ مرتبہ بلند آواز سے لوگوں کو نمانہ کے لئے پکار پکا نہ کمر بلا نا کار دارد ہے۔اس لئے جدید تکنیکی آلات سے استفادہ کرتے ہوئے اذان مسجد کے اندر ہی لاؤڈ سپیکر کی مدد سے دی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔مسجد کا افتتاح فرقہ احمدیہ کے سر براہ اعلی حضرت مرزا ناصر احمد خلیفہ اسیح نے فرمایا۔تمام دنیا سے بالعموم اور انگلستان جرمنی اور پاکستان سے خصوصا آنے والے مہمانوں کے علاوہ ایسٹونین آرتھوڈوکس چرچ کے پادری صاحب بھی اس موقع پر آئے ہوئے تھے۔حضرت مرزا ناصر احمد (حضرت) احمد (علیہ السلام) کے تیسرے خلیفہ ہیں۔اس فرقہ کی بنیاد اس غرض سے رکھی گئی تھی تا کہ تمام بنی نوع انسان کے لئے سب سے آخری اور تکمیل دین کی حیثیت سے اصلی اور حقیقی اسلام کا انہ سرتو احیاء کیا جائے۔اس فرقے کے دعوے کے بموجب بانی سلسلہ احمدیہ ( آخری زمانہ میں آنے والے) موعود مسیح تھے۔وہ اس لئے آئے تھے تا کہ قرآن کی کامل تعلیم کی جو موجودہ زمانہ کے لئے بھی موزوں ترین تعلیم ہے نئی تعمیر اور نئی تشریح سے دنیا کو آگاہ کر سکیں۔خلیفہ تسبیح نے خطبہ جمعہ میں اس امر پر روشنی ڈالی کہ رضاء الہی کی خاطر اللہ کے گھر کو پاک صاف رکھنا از حد ضروری ہے۔آپ نے فرمایا یہ (یعنی مسجد ) ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہمیں خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر کے اس دنیا میں زندگی بسر کرنی چاہیئے۔جو شخص نیک اور دیندار نہ ہو خدا تعالیٰ اس کی راہنمائی نہیں فرماتا۔خدا تعالیٰ کی راہنمائی اور ہدایت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو عدل۔امن و عافیت اور آزادی کا درس دیتا اور اس کے قیام کے لئے کوشاں رہتا ہو۔خدا تعالیٰ ایسے شخص کو محبت یک رنگی اور حقیقی را ہنمائی سے نوازتا ہے۔تاکہ وہ حیات نو اور خدمت نوع انسان کے پیغام کو پھیلا سکے۔وہ جماعت جس نے گوٹن برگ میں مسجد بنائی ہے تبلیغ اسلام کا فریضہ بجا لانے والی ایک مضبوط تنظیم کی حامل ہے بسکولوں کے قیام کی وہ زبردست حامی ہے تا کہ مسلمان بچوں کو دینی تعلیم بھی دی جا سکے۔یہ جماعت کوپن ہیگن - لندن - دی ہیگ۔ہمبرگ - فرینکفورٹ اور زیورک میں مساجد پہلے ہی تعمیر کو چکی ہے۔اگلے سال قرآن کا سویڈش زبان میں ترجمہ شائع کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔اور منصوبہ یہ ہے کہ آئندہ سولہ سال میں تمام یورپی زبانوں میں قرآن کے تراجم شائع ہو جانے چاہئیں۔