تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 494 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 494

۴۹۴ بعد تحقیق نا چیز نکلے تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے اور اگر ہم ان کا کافی و شافی جواب دینے سے قاصر ہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ عین اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کر رکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجه در ذیل اور ناقص اور دور از صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا ہے تقریر استان کا چرچا ڈنمارک ہیں میں ڈنمارک پر ی نے مسجد کو پی سی کے پریس افتتاح کا وسیع پیمانہ پر چرچا گیا۔اس سلسلہ میں چند اخبارات کا ذکر کیا جاتا ہے۔(1) ڈنمارک کے ایک ہفت روزہ اخبار VALBY BLADET VALBY BLADET نے اپنی ۲۷ جولائی ۹۶ کی اشاعت میں زیر عنوان " سکنڈے نیویا میں سب سے پہلی مسجد کا افتتاح اور خلیفہ صاحب کی مجلس لکها هر اس مجلس میں روحانی آزادی سے ہمکنار کرنے والی ایک عجیب و غریب فضا چھائی ہوئی تھی۔اس عجیب و غریب اور حریت نواز ماحول میں مغربی پاکستان سے تشریف لائے ہوئے خلیفہ مرزا ناصر احمد صاحب کی عظیم اور واجب الاحترام شخصیت سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی۔آپ کا چہرہ گہری بھووں اور سفید ریش سے مزین تھا۔یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا اُن بزرگ اور مقدس ہستیوں میں سے جن کا ذکر کتاپ موسی میں آتا ہے۔ایک بزرگ اور مقدس مہنتی ہمارے درمیان تشریف فرما ہے۔فی الواقع مر شخص نے اُس عظمت اور تقدس کو محسوس کیا جو آپ کے وجود میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔یہ احساس اور یہ تاثر اس وقت اور بھی زیادہ اُجاگر ہو گیا جب آپ نے ان الفاظ کے ساتھ پر یس کا نفرنس کا آغاز فرمایا : " میں جنگ کا نہیں، امن کا حامی ہوں اور امن کے ایک پیرو کی حیثیت سے خدا کے اس گھر کے دروازے لوگوں پر کھولنے آیا ہوں۔افتتاحی تقریر کے بعد گہری خاموشی کے عالم میں تین منٹ کی دعا ہوئی ، ٹیلی ویژن والوں، نه اشتہار مفید الاخیار مشموله سر و چشم گریه منت