تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 493 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 493

۴۹۳ توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورۃ کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورۃ فاتحہ کے ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جیسی ترتیب انسب اور ترکیب محکم اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صد ہا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چنار ورق انجیل سے نکالنا چاہیں تو کو ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لاحاصل ہوگی اور یہ بات لاف و گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہم کیا کریں اور کیونکہ فیصلہ ہو۔پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔بھلا اگر وہ اپنی توریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت ظاہر کرنے میں کامل سمجھتے ہیں تو ہم بطور انعام پانسو روپیہ نقد ان کو دینے کے لئے تیار ہیں : اس کے علاوہ حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حسب ذیل چیلنج بھی دہرایا۔جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات اُن میں ایک ذرہ مواخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صد با جزئیات ہوتی ہیں اور اُن سب کی کیفیت کا معرض سحبت میں لانا ایک بڑی مہلت کو چاہتا ہے۔اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اول بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو اُن کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرہ سے نسبت ہوتی ہے۔یعنی اُن کے سب اعتراضوں سے اُن کی نظر میں اقوئی و اشد اور انتہائی درجہ کے ہوں۔جن پر اُن کی نکتہ چینی کی پر زور نگاہیں ختم ہوگئی ہوں اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کہ انہی پر جا ٹھہری ہوں سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کر کے حقیقت حال کو آزما لینا چاہیے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہو جائے گا۔کیونکہ اگر بڑے اعتراض کتاب سراج الدین بیسائی کے چار سوالوں کا جواب ص۳۲ طبع اول ۲۲ جون شده