تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 492 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 492

۴۹۲ میں اسلام کی اس بے مثال تعلیم کو نمایاں طور پر پیش کیا کہ مسجد خانہ خدا ہے۔کسی کی ملکیت نہیں لہذا اسلامی مساجد کے دروازے ہر ایسے فرد اور ہر ایسی مذہبی جماعت کے لئے کھلے ہیں جو خدا واحد کی پرستش کرنا چاہے۔خطاب کے دوسرے حصہ میں حضور نے پنچ بنائے اسلام کی تشریح فرمائی اور بتایا کہ یہ پانچ ستون ہیں جن پر مسجد استوار ہوتی ہے۔اس تقریر کے بعد حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اس یادگار افتتاحی تقریب میں یورپ کے مبلغین اسلام ، احمدی احباب، غیر ملکی سفراء ڈنمارک کی سر بر آوردہ شخصیتیں اور کوپن ہیگن کے معز نہ شہری کثیر تعداد میں شریک ہوئے اس موقع پر حضور نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا جس میں عالمی اختیارات کے نمائندوں نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔نیز ریڈیو اور ٹیلی ویژن نے حضور کا خصوصی انٹرویو بھی ریکارڈ کیا۔کوپن ہیگن کی اہم شخصیتوں کی ملاقات اور او پی سی میں حضور ایک مفت قیام فرم حضرت امام جماعت احمدیہ عیسائی دنیا کو چیلنج کرے اور پھر ے ، جولائی سننے کو ۲۷۔اس دوران افتتاح مسجد کے بعد بھی حضور کی اہم دینی مصروفیات نقطۂ عروج پر رہیں مثلاً ۱۲ جولائی کی شام کو حضور کی خدمت میں ڈینیش مشنری سوسائٹی کے بعض نامور مناد ، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے مستشرق اور گون میگین میوزیم کے ایتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ڈائر یکٹر اور ان کے مشیر کے علاوہ عیسائی متادوں کے ایک بورڈ کے وہ ممبر حاضر ہوئے جو اُن دنوں احمدیت پر ریسرچ کر رہے تھے۔سب سے پہلے سیکرٹری ڈینٹل مشتری سوسائٹی نے ارکان وفد کا تعارف کرایا، پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ملاقات کے آخر میں حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کے حسب ذیل چیلینج کا انگریزی ترجمہ پڑھ کر فرمایا کہ یہ دعوت آپ بھی کھلی ہے۔ہمیں خوشی ہوگی اگر عیسائیت کی سچائی اور صداقت کا فیصلہ کرنے کے لئے عیسائی حضرات یہ دعوت قبول کر لیں چلینج یہ تھا کہ در ل منتقل تقریر ملاحظہ ہو روزنامه الفضل ربوده در اگست شاء من دمش۔ام الفضل ربوه ۲۹ جولائی ۱۹۶۶ را سه روزه نامه الفضل ر بوه ۲ راگست ۱۹۶۶ ص۳ -