تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 481
NM خاصی دلچسپی کا اظہار کیا اور ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔یہ دوست جرمن زبان بھی جانتے ہیں اس لئے انہیں جرمن لٹریچر مطالعہ کے لئے دیا۔جرمن کو نسل جرنل اور وائس کو نسل جنرل سے بھی برادرم کمال یوسف صاحب کی ملاقات کروائی۔اور انہوں نے مشن کے کاموں کے سلسلہ میں امداد کا وعدہ کیا۔اور یونیورسٹی کے جرمن زبان کے ایک پروفیسر کے ذریعہ مختلف علمی اداروں سے تعارف کروانے کا یقین دلایا۔گوٹن برگ کے سب سے بڑے اخبار GOTE BORGS POSTE نے اپنی اشاعت مورخہ ۲۲ جون میں ہم دونوں کے فوٹو کے ساتھ خاکسار کا انٹرویو نہایت اچھے الفاظ میں شائع کیا۔اس میں مضمون نگارنے اسلام کو امن مصلح اور رواداری کا مذہب قرار دیتے ہوئے اہالیان سویڈن کی توجہ ہمارے مشن کی طرف مبذول کرائی ہے مضمون نگار لکھتا ہے کہ مسٹر لطیف نے بتایا کہ لفظ اسلام کا مطلب امن ہے۔اس لئے اسلام امن کے قیام پر خاص زور دیتا ہے۔السلام صرف (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی قرار نہیں دیتا بلکہ حضرت مسیح کو بھی نبی قرار دیتا ہے۔اسلام عالمگیر قوت کا حامی ہے۔گوٹن برگ میں بھی مناسب وقت پر مسجد تعمیر کی جائے گی۔جماعت ہمبرگ (جرمنی میں عنقریب مسجد تعمیر کروا رہی ہے۔ایک مسلمان دن میں پانچ دفعہ اپنے ربّ کے حضور سربسجود ہوتا ہے۔میر لطیف نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی نماز میں ایک خاص روحانی تو ت ہے اور اللہ اپنے عاجز بندوں کی مخلصانہ دعاؤں کو پایہ قبولیت بھی بخشتا ہے۔آخر میں برادرم کمال یوسف صاحب کا ذکر کرتے ہوئے مضمون نگار لکھتا ہے ک گفتگو کے دوران وہ اپنے آئندہ مشن کے قیام کی تجاویز سوچنے میں منہمک نظر آتے تھے مضمون نگار نے یہ بھی ذکر کیا کہ جماعت احمدیہ کامرکز پاکستان میں ہے جہاں مبلغین دنیا بھر میں تبلیغ کے کام کو سرانجام دینے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی تائید و نصرت کے بھروسہ پر سویڈن میں مشن کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے۔اس اہیم نے مشن کا قیام حضرت امیر المومنین کی اولوالعزمی بلند میتی اور دین حق کی اشاعت کے درد کا مظہر ہے؟ له روزنامه الفضل ربوہ ۱۲ جولائی ۱۹۵۷ء ص۳