تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 474
۷۴ام چیزوں کو دیکھتے تو ہمارا ایمان تازہ ہوتا تھا اور اب نہیں اس سے سینکڑوں گنے زیادہ روپیہ ملتا ہے اور وہ روپیہ ہمارے ایمان کو بڑھاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے۔مجھے اپنی عمر میں بعض غیر احمدیوں نے دو دو تین تین چار چار ہزار روپیہ نذرانہ کے طور پر دیا ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسّلام کے زمانہ میں یہ حالت تھی کہ آپ کو چار سو روپیہ ملا تو آپ نے موعود کے سمجھا شائد اس میں پیسے ہی ہوں گے ورنہ اتنا روپیہ کون دے سکتا ہے آج اگر وہی زمانہ ہوتا تو وہ لوگ جو اس وقت افسوس کر رہے ہیں ان کو بھی قربانی کا موقع مل جاتا اور شخص قربانی کر کے سمجھنا کہ مجھے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کا موقع عطا فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے لیکن وہ زمانہ تو گزر گیا اب پھر ایک دوسرا زمانہ آگیا ہے جس ہیں خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے دین کی خدمت کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کر رہا ہے۔بہر حال ہر زمانہ کے لحاظ سے خدا اپنی نہ ندگی کا ثبوت دیتا چلا آیا ہے اس زمانہ میں چار سو ر و پره کامل جا نا خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ایک ثبوت تھا اس زمانہ میں کبھی کبھی چالیس پچاس ہزار دے کر اس نے اپنی زندگی کا ثبوت دیا ہے اور آج خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت وہ اڑھائی سو پونڈ ہیں جو ایک دوست نے اطلاع ملتے ہی لنڈن بنک میں جمع کر وا دیئے۔اسی طرح اس ترکی پروفیسر کا وہ روپیہ بھی زندہ خدا کا ایک نشان ہے جو اس نے اپنے اوپر خرپا کرنے کی بجائے مجھے دین پر خرچ کرنے کے لئے بھجوا دیا۔یا پھر خدا تعالے کے زندہ ہونے کا ثبوت اس جیشی چیف کا واقعہ ہے جس نے احمدیہ پریس کے لئے ایک ہزار پونڈ دو قسطوں میں دے دیا اور یا پھر خدا تعالٰی کے زندہ ہونے کا ثبوت افریقہ کے اس دوست کا خط ہے جنہوں نے یہ لکھا کہ آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔آپ روپیہ کے متعلق کسی قسم کا فکر نہ کریں۔بیرونی مشنوں کیلئے جتنے پونڈوں کی ضرورت ہو ہمیں لکھیں ہم کسی نہ کسی طرح جمع کر دیں گے۔عرض خدا تعالٰی ہر زمانہ میں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت مہیا کرتا ہے اور اس طرح وہ اپنے مومن بندوں کے ایمانوں کو بڑھانا رہتا ہے مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب اشتہار چھپوانے کے لئے بھی ہمارے پاس کوئی روپیہ نہ ہوتا تھا۔نہیں جب خلیفہ ہوا اور غیر مبایعین کے مقابلہ میں میں نے پہلا اشتہار لکھا تو اس وقت ہماری مالی مالت اتنی کمزور تھی کہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لئے بھی ہمارے پاس