تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 468 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 468

سے انکار کر دیا تھا تو اب ہمارے خدا نے بھی ہمیں اپنا پریس دے دیا ہے۔ایک ہزار پونڈ ہمار ملک کی قیمت کے لحاظ سے تیرہ ہزار روپیہ کا بنتا ہے۔اور یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ بڑے بڑے تاجر بھی اتنا رو پہ دینے کی اپنے اندر توفیق نہیں پاتے۔وہ بڑے مالدار ہوتے ہیں مگر اتنا چندہ دینے کی ان میں ہمت نہیں۔انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس سے پہلے جب اس چیف نے پانی ہو پونڈ چندہ دیا تھا تو میں ایک شامی تاجر سے بھی ملا تھا۔میں نے اسے تحریک کی کہ وہ بھی اس کام میں حصہ لے اور میں نے اسے کہا فلاں گاؤں کا جو رئیس ہے اس نے پانچ سو پونڈ چندہ دیا ہے۔وہ کہنے لگا کہ میری طرف سے بھی آپ پانچ سو پونڈ لکھ لیں اور پھر کہا کہ میں اس وقت پانچ سو پونڈ لکھواتا ہوں مگر کہیں دُوں گا اس چیف سے زیادہ ، یہ کتنا بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ ہمارا خدا ایک زندہ خدا ہے۔ایک معمولی گاؤں کا چیف ہے اور پھر احمدیت کا اتنا مخالف ہے کہ کہتا ہے اگر دریا اللہ چلنے لگے تو یہ ممکن ہے لیکن یہ ممکن ہی نہیں کہ میں احمدی جو سکوں۔مگر پھر خدا تعالیٰ اسے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے اور نہ صرف احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے بلکہ یکدم اسے ہزاروں روپیہ سلسلہ کو پیش کرتے کی توفیق مل جاتی ہے۔له روزنامه الفضل ريوه ۱۰ جولائی ۱۹۵۷ء صفحه ۳۱۲ سے مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری فرماتے ہیں :- ** مذکورہ بالا پریس کے لئے جب مالی تحریکیں کی جارہی تھیں تو مجھے دن رات یہ فکر رہنے لگا کہ آپ ہم احمدیہ پریس کہاں اور کس عمارت میں فٹ کریں گے کیونکہ ہمارے پاس اس وقت " بو " میں سوائے ایک احمدیہ دارالتبلیغ کی عمارت کے اور کوئی عمارت نہ تھی۔اسی فکر میں ایک شب بے چینی کے عالم میں بار بار بستر پر پہلو بدلتے ہوئے خاکسار اللہ تعالیٰ کے حضور ملتجی تھا کہ الہی اس پریس کے لئے عمارت کا کیا انتظام کیا جائے کہ اچانک اللہ تعالیٰ نے دل میں ڈالا کہ محترم الحاج علی روجرز صاحب کو تحریک کروں کہ وہ اپنے دو مکان اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر جماعت کے نام سہہ کر دیں۔چنانچہ اگلے روز خاکسار نے مکرم الحاج علی روجر ز صاحب کے پاس جا کہ انہیں کہا کہ جماعت کی :