تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 458 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 458

۴۵۸ حضرت مسیح موعود علیہ الصلو قا و اسلام نے رکھی اور اس کا نام تعلیم الاسلام ٹائی سکول تجویز فرمایا۔اب ربوہ کے سکول کا نام بھی وہی ہے۔حالانکہ وہ سکول جس کی بنیاد حضور نے اپنے دست مبارک سے رکھی تھی وہیں رہ گیا ہے۔اس طرح اور بھی کئی عمارات ہیں جن کا تبر کا خلقی طور پر وہی نام یہ کھا گیا ہے۔جو ان عمارات کا قادیان میں تھا اس لئے حضور والا میری عقل ناقص کے مطابق تبرک اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کا نام بھی نور ہسپتال ہی رکھا جائے۔بے شک اس کی مکانیت اور اس کی بنیاد کے لحاظ سے اس کا نام بدل سکتے ہیں مگر جب باقی اکثر عمارتیں جو تعمیر کی گئی ہیں اُن کا بھی وہی نام رکھا گیا ہے تو پھر خاص کہ نور ہسپتال کے نام کے بدلنے کی خاص ضرورت کیوں پیش آگئی۔اس کے علاوہ معرصہ پانچ سال سے جو شروع میں کچا ہسپتال تھا اس کا نام بھی نور ہسپتال ہی رکھا گیا حالانکہ اس کی بنیاد بھی حضور نے ہی رکھی تھی۔تو اب اس نئے ہسپتال کے لئے صد نمین کا نیا نام تجویز کہ نا ایک عجیب سی بات نظر آتی ہے۔حضور والا چونکہ تمام عمارتوں اور محلوں وغیرہ کے نام تبرکا قادیان کے ہی ناموں جیسے رکھے گئے ہیں۔اس لئے وہی تیر کا اس بات کا شدید مقتضی ہے کہ اس ہسپتال کا نام بھی نور ہسپتال ہی رہنے دیا جائے ، خاکسار کو امید ہے کہ حضور صدر انجمن احمدیہ کو ارشاد فرمائیں گے کہ وہ اپنا فیصلہ منسوخ کر دے " ( حضرت مصلح موعود کا جواب الجواب ) سکول اور کالج کے نام تبدیل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کے نام پر نہیں تعلیم الاسلام ان کا نام ہے اور وہ حضرت مسیح موعود کے ر کھے ہوئے نام ہیں۔کیا تعلیم الاسلام نام کی بجائے آپ کے خیال میں تعلیم عیسائیت یا تعلیم ہندویت رکھا جاتا۔جن کے چندوں سے یہ ہسپتال بنا ہے وہ شوری میں مل کر یہ فیصلہ کر دیں کہ اس کا نام نور ہسپتال رکھ دیا جائے تو فوراً بدل دیا جائے گا۔در حقیقت یہ ہسپتال چندوں سے بن بھی نہیں رہا ہے بلکہ ہماری تجارتی کمائی سے بن رہا ہے۔دس ہزارہ میں نہ بوہ کی زمین خریدی گئی جس میں سے پانچ ہزار روپیہ میں نے دیا۔اس فروخت سے جو نفع ہوا اس سے کالج سکول اور ہسپتال بن