تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 453
۴۵۳ دیا ہے۔اس قسم کے بہت سے اجتماع ہر سال ہونے چاہئیں اور ہمارے مبلغین کو طوفانی دورے کر کے لوگوں کو سچائی کے سر چشمہ کی طرف لانا چاہیئے۔ہمارے رسول مقبول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مسلمانوں کو اپنی طرف بلا رہے ہیں۔صرف ایک حضرت شیخ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعہ لاکھوں مہندو اسلام کی طرف آئے اور اب بھارت میں چار کروڑ مسلمان ہیں وہ چالیس کروڑ غیر مسلموں کو اسلام میں لا سکتے ہیں۔پس حالات کے تقاضا کو سمجھو اور اس کے مطابق اعمال بجا لاؤ اور آنحضرت صلی الہ علی ایم کے پتے اور مخلص سپاہی بنور دنیا میں امن کو قائم کرنے والے بنور اور جلدی اور ستنقل مزاجی سے کام کرد۔خدا تعالیٰ یقینا تمہاری مدد کرے گا۔اور تم لوگوں کے دلوں کو حق وصداقت کے لئے پس مایوس نہ ہوں اور خدا تعالیٰ پر یقین اور بھروسہ رکھیں۔خدا تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے۔مایوسی کی کوئی وجہ نہیں چھوٹی سے چھوٹی مایوسی بھی گھر کے برابر ہے مسلمان بہادر ہوتے ہیں۔پس سچے اور بہادر ہو۔اور ہمیشہ بذریعہ خط و کتابت میرے ساتھ تعلقات رکھو۔بھارت میں امن کے قیام کا باعث بنو ہر مسلمان تمہارے کاموں کو سمجھتا ہے اور تمہارے خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق کو تسلیم کرتا ہے۔وہ یقینا خدا تعالیٰ کے لئے اور ملک کی بہتری کے لئے تمہاری تقلید کرے گا۔اکے میرے خدا ! اپنے فرشتوں کو حکم دے کہ بھارت کے حالات اسلامکے لئے ایسے موق ہو جائیں جیسے میں چاہتا ہوں خلیفہ ایسا ( ترجمه از انگریزی ) مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل وکیل ہائی کورٹ یادگیر کا نفرنس کی تفصیلی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ :۔د اس پیغام نے " نیخ روج کا کام دیا اور احمدی بھائی بہنوں اور بچوں کے از دیا وانیا کا موجب ہوا۔اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ہر فرد بشر میں ایک خاص خوش، دلولہ اور اُمنگ اگھر ه بدر ۴ ارجون ۹۵۶ یه صفحه ۲